’سافٹ امیج‘ ابھارنے کی کوشش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کا سافٹ امیج ابھارنے، اس ملک کو عالمی سیاحتی نقشے پر لانے اور سیاحوں کی سالانہ تعداد ساڑھے پانچ لاکھ سے بڑھا کر ایک ملین کرنے کے جذبے کے تحت دوہزار سات کو سرکاری طور پر سیاحت کا سال قرار دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ویزا پالیسی میں خاصی نرمی کی گئی ہے۔ غیرملکی ٹور آپریٹرز کو پاکستان سے متعارف کروایا جارہا ہے۔ رنگین بروشرز چھاپے گئے ہیں۔ فروغِ سیاحت کی کانفرنسیں ہورہی ہیں اور وزارتِ سیاحت کی ویب سائٹ بھی اپ ڈیٹ کی گئی ہے۔ میں نے آج پاکستان ٹورزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کی ویب سائٹ کھولی تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ اس برس کی مناسبت سے کیا کیا سہولتیں اور ترغیبات پیش کی گئی ہیں۔ اس ویب سائٹ کی تفصیلی چھان بین سے معلوم ہوا کہ پاکستان میں اکتوبر دوہزار پانچ میں کوئی زلزلہ نہیں آیا تھا۔ صوبہ سرحد اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں سب کچھ معمول کے مطابق ہے۔ تمام راستے ٹھیک ہیں۔ کوئی ہوٹل یا ریسٹ ہاؤس تباہ نہیں ہوا۔ بالا کوٹ، وادی کاغان اور کشمیر کی حسین وادیاں پہلے کی طرح باہیں پھیلائے پیارے سیاحوں کا انتظار کررہی ہیں۔ ویب سائٹ پر بلوچستان کے پرفضا ساحلی اور پہاڑی مقامات موجود ہیں۔ وہاں آپ بلاخوف و خطر جا سکتے ہیں۔ کشمیر کے بارے میں تو یہ تذکرہ ہے کہ وہاں غیرملکی بلا اجازت داخل نہیں ہوسکتے لیکن بلوچستان کے بارے میں ایسی کوئی ہدایت نہیں ہے جبکہ عملاً بلوچستان میں غیرملکیوں بالخصوص مغربی باشندوں کا داخلہ بند ہے۔ ویب سائٹ پر موہنجودڑو کی پانچ ہزار برس پرانی تہذیب کے کھنڈرات کا تذکرہ ہے مگر یہ بات غائب ہے کہ وہاں ہفتے میں صرف ایک پرواز جاتی ہے۔ حیدرآباد کے تاریخی قلعے کا تذکرہ ہے لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ اس میں ہزاروں لوگ برسوں سے مکانات بنا کر رہ رہے ہیں۔ تھرپارکر کے مندروں کا ذکر ہے لیکن یہ پتہ نہیں چلتا کہ سیاح وہاں جا کے رہے گا کہاں۔ کراچی میں کلفٹن کے ساحل کا دلفریب بیان ہے لیکن یہ بتانے سے پرہیز کیا گیا ہے کہ اس کی ریت پر آلودگی اور کچرے کے سبب چلنے سے پرہیز کیا جائے۔
ملتان کی قدامت اور روحانیت کا بیان ہے مگر ملتان کے باقی صفحات پر کلک کریں تو وہ کھلنے سے انکار کردیتے ہیں۔ لاہور کے تاریخی باغات میں چھانگا مانگا کا جنگل اور شیخوپورہ کا ہرن مینار بھی شامل کردیا گیا ہے مگر شالامار باغ کا کوئی وجود نہیں صرف تصویر ہے۔ پشاور کے ہوٹلوں اور انتظامیہ کے ایمرجنسی نمبروں کا تو بیان ہے لیکن ویب سائٹ سے یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ وہاں سیاح دیکھے گا کیا۔ حتٰی کہ مہینے میں ایک مرتبہ چلنے والی خیبر سفاری ٹرین کا بھی کوئی نام و نشان نہیں۔ اٹک کے تاریخی قلعے کا تذکرہ ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سیاح اسے صرف باہر سے دیکھ سکتے ہیں۔ اسی طرح شانگلہ کے ایک دلفریب مقام تنگی کو دیکھنے کی ترغیب دی گئی ہے لیکن خبردار کیا گیا ہے کہ وہاں رہنے کے لیے دوکمروں کا ریسٹ ہاؤس ہے جبکہ پانی حاصل کرنے کے لیے سامنے چشمہ بہہ رہا ہے۔ تربیلا ڈیم بھی قابلِ دید مقام بتایا گیا ہے لیکن وہاں کے ریسٹ ہاؤس میں قیام کے لیے واپڈا کا پرمٹ درکار ہے۔ میرا خیال ہے کہ اگر کوئی غیرملکی سیاح اس ویب سائٹ کی بنیاد پر پاکستان چلا آیا تو ملک کا امیج سافٹ ہو نہ ہو خود وہ سیاح ضرور سافٹ ہو کر واپس جائے گا اور یہاں سافٹ سے مراد ہے رقیق القلب۔ |
اسی بارے میں ڈیلکس انصاف10 December, 2006 | قلم اور کالم ’امریکہ نے تمام مواقع گنوا دیئے‘11 February, 2007 | قلم اور کالم ڈرتا ہوں آدمی سے کہ مردم گزیدہ ہوں 14 January, 2007 | قلم اور کالم ’جس سے ملیئے اسے خفا کیجئے‘07 January, 2007 | قلم اور کالم ’بالغ ہونے کے لیئے کتنا وقت‘19 November, 2006 | قلم اور کالم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||