اللہ جانے یہ کیا ہے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اللہ جانے پاکستان کا موجودہ آئین صدارتی ہے کہ پارلیمانی۔ مگر انیس سو تہتر میں مرتب ہونے والی اس متفقہ دستاویز میں کچھ خوبیاں ایسی ہیں کہ شاید ہی کسی اور ملک کے آئین کو نصیب ہوں۔ مثلاً آپ اس دستاویز کو ٹھوس سے مائع اور مائع سے گیس میں تبدیل کرکے پھر ٹھوس شکل میں لا سکتے ہیں۔آپ اسے مداری کا وہ ہیٹ بنا سکتے ہیں جس میں سے خرگوش بھی نکل سکتا ہے، نوٹوں کے ہار برآمد ہوسکتے ہیں، شعبدہ باز اس کی راکھ مٹھی میں بند کر کے پھونک مارے تو پھر یہ کتابی شکل میں واپس آجاتا ہے۔ اس میں سے فال بھی نکل سکتی ہے کہ اگلا وزیرِ اعظم کون ہوگا ، کب تک ہوگا اور کتنا ہوگا؟ اس آئین کو پامال کرنے والا بھی موت کی سزا کا حقدار ہے اور اسی آئین کے تحت اس کے خالق کو بھی سزائے موت دینا ممکن ہے۔ اس دستاویز میں یہ بھی گنجائش ہے کہ عدلیہ سےانتظامیہ کے طور پر کام لیا جاسکے اور یہ بھی گنجائش ہے کہ انتظامیہ عدلیہ کے طور پر کام دکھا دے۔ اس دستاویز کے تحت صدر کے انتخاب کے لیے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیاں الکٹورل کالج بن سکتی ہیں۔اور کوئی شخص اس الکٹورل کالج سے بالا بالا ریفرینڈم کے ذریعے بھی صدر بن سکتا ہے۔ یہ آئین کلی یا جزوی طور پر بھی نافذ رہ سکتا ہے اور کلی یا جزوی طور پر معطل ہو کے پھر بحال بھی ہوسکتا ہے۔ اس آئین میں یہ بھی گنجائش ہے کہ چار پانچ محکمے چھوڑ کر باقی محکمے صوبوں کے حوالے کردئیے جائیں اور یہ بھی گنجائش ہے کہ ہنگامی حالات بتا کر صوبوں کے پاس صرف چار پانچ محکمے چھوڑ دیے جائیں۔ کبھی اس آئین کے تحت صدر، وزیرِ اعظم اور کابینہ پارلیمنٹ کو جوابدہ ہوتے ہیں تو کبھی پارلیمنٹ وزیرِ اعظم اور کابینہ کے توسط سے صدر کو جوابدہ بن جاتی ہے۔ اس آئین کے تحت وزیرِ اعظم میں اگر تپڑ ہو تو وہ گتے کا صدر تخلیق کر سکتا ہے۔ تپڑ نہ ہو تو خود کارڈ بورڈ پرائم منسٹر بن جاتا ہے۔ چاہے تو صدر آئین کے تحت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے سال میں ایک مرتبہ خطاب کا پابند ہے۔نہ چاہے تو صدر خطاب نہ کرنے کی آئینی تاویل بھی اسی کتاب سے ڈھونڈھ سکتا ہے۔ اس آئین میں یہ بھی درج ہے کہ کوئی شخص بطورصدر کوئی منفعت بخش عہدہ اپنے پاس نہیں رکھ سکتا۔لیکن اسی آئین میں یہ گنجائش بھی ہے کہ ایک شخص صدر ہوتے ہوئے مسلح افواج کا تنخواہ دار سربراہ بھی رہ سکتا ہے۔یعنی جو شخص بحیثیت صدر باس ہے وہی شخص بحیثیت چیف آف اسٹاف اپنا ہی ماتحت بھی ہوسکتا ہے۔ بطور چیف آف سٹاف یہ شخص وزیرِ اعظم کو سلوٹ اور بطور صدر کک مارنے کا بھی مجاز ہے۔ آئین میں جو درج تھا وہ بھی آئینی ہے۔اور جو بعد میں کسی بھی طریقے سےدرج ہو گیا وہ بھی آئینی ہے اور جو آئندہ درج ہوگا وہ بھی آئینی کہلاوے گا۔ گویا انیس سو تہتر کا آئین ایک ایسی یوزر فرینڈلی دستاویز ہے جسے کوئی چاہے تو بطور نوٹ بک یا لاگ بک بھی استعمال کرسکتا ہے۔ بقولِ عزیز حامد مدنی | اسی بارے میں کتنا رفو کریں گے18 December, 2006 | قلم اور کالم ’جس سے ملیئے اسے خفا کیجئے‘07 January, 2007 | قلم اور کالم ڈرتا ہوں آدمی سے کہ مردم گزیدہ ہوں 14 January, 2007 | قلم اور کالم ڈوپنگ کون کررہا ہے؟29 October, 2006 | قلم اور کالم ’بالغ ہونے کے لیئے کتنا وقت‘19 November, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||