’امریکہ نے تمام مواقع گنوا دیئے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مجھ جیسوں کو اس پر حیرت ہے کہ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے میونخ میں ہونے والی سلامتی کانفرنس میں روسی صدر ولادی میر پوتن کے خطاب پر افسوس اور حیرت کا اظہار کیا ہے۔اس خطاب میں صدر پوتن نے یہی تو کہا ہے کہ بطور واحد سپر پاور امریکہ کی سوائے اسکے کوئی عالمی پالیسی نہیں کہ وہ سیاسی، عسکری اور اقتصادی لحاظ سے دنیا کا داداگیر بنا رہے۔ امریکی حکومت نے اپنے ردِ عمل میں اگرچہ ولادی میر پوتن کے مایوس کن جمہوریت کُش ریکارڈ کا حوالہ دیا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پوتن کی جمہوریت کش پالیسیوں سے صرف روس متاثر ہورہا ہے جبکہ امریکی پالیسی سے پوری دنیا متاثر ہورہی ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد بیشتر کو توقع تھی کہ سپر پاورز کی کشاکش سے آزاد ہونے کے بعد عالمی فوجی بجٹ میں کمی آ جائے گی اور دنیا ایک طویل وقفے کے بعد امن اور جمہوری اقدار کی جانب لوٹ جائے گی۔کیونکہ امریکہ جس نے پچاس برس تک سوویت آمرانہ نظام کے مقابلے میں فروغِ جمہوریت کا جھنڈا بلند کئے رکھا ۔نئی دنیا میں وہ ایک زمہ دار واحد سپر پاور کا کردار نبھائے گا۔
چنانچہ اس حیثیت میں امریکہ چاہتا تو اب سے دس برس پہلے ہی اسرائیل فلسطین تنازعہ منصفانہ طریقے سے حل کروا کے عرب حکمراں طبقے کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطی کے عوام کا دل بھی جیت لیتا اور یوں القاعدہ کے لئے عام آدمی کا دل تنگ ہوجاتا۔ امریکہ چاہتا تو بطور واحد سپر پاور اسرائیل کا ایٹمی پروگرام رول بیک کروا کے ہندوستان، پاکستان، شمالی کوریا اور اب ایران کے ایٹمی ایجنڈے کو پراثر انداز میں اخلاقی جواز سے محروم کرسکتا تھا۔ صدام حسین کے وسیع تر تباہی والے افسانوی ہتھیاروں کے جواز کو عراق پر حملے کے لئے استعمال نہ کرکے امریکہ نہ صرف نائن الیون کے واقعات سے پیدا ہونے والی عالمی ہمدردی برقرار رکھ سکتا تھا بلکہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں اپنی نیت پر اٹھنے والے سوالات سے بھی محفوظ رہ سکتا تھا۔ امریکہ چاہتا تو بین الاقوامی جرائم کی سماعت کی مستقل عالمی عدالت کے تصور کی حمایت کرکے، اپنے فوجیوں کو جنگی جرائم کے الزامات سے مستسنیٰ رکھنے کی ضد نہ کرکے اورگوانتا نامو جیسے قید خانے قائم نہ کرکے اس دنیا میں تاریک قوتوں کے خلاف انسانی حقوق کے قوانین کا طاقتور پشت پناہ ثابت ہو سکتا تھا۔ اگر امریکہ عالمی ماحولیاتی آلودگی میں کمی کے کیوٹو سمجھوتے کی حمایت کردیتا تو پھر چین سمیت تیز رفتار اندھا دھند صنعت کاری کے ذمہ دار ترقی پزیر اور ترقی یافتہ ممالک سے کرہ ارض کو آلودگی سے پاک کرنے کی ٹھوس ضمانتیں حاصل کرنا زیادہ مشکل نہ ہوتا۔
مگر امریکہ نے واحد سپر پاور ہوتے ہوئے بھی باقی دنیا سے عزت کروانے کے یہ سب مواقع گنوا دئیے۔اس نے ایک انصاف پسند عالمی پولیس مین بننے کے بجائے پنجابی فلم کا وہ ولن بننا پسند کیاجو نشے میں دھت بڑھکیں اور للکاریں مارتا سڑکوں پر گولیاں چلاتا ہوا دوڑتا ہے ۔ جو کچھ ولادی میر پوتن نے کہا اس میں کچھ بھی نیا نہیں ۔اقوامِ متحدہ کے سابق سکریٹری جنرل کوفی عنان بھی اپنے الوداعی کلمات میں کہہ چکے ہیں کہ موجودہ امریکی پالیسیوں سے دنیا پہلے کے مقابلے میں مزید غیر محفوظ ہوگئی ہے۔خود امریکی عوام پچھلے نومبر میں کانگریس کے انتخابات میں بذریعہ بیلٹ موجودہ خارجہ پالیسی پر عدم اعتماد کرچکے ہیں۔ اتنے جھٹکے کھانے اور باتیں سننے کے باوجود واشنگٹن انتظامیہ اس مصرعے کو مسلسل اپنی گلوبل پالیسی کا محور بنائے ہوئے ہے۔ |
اسی بارے میں یہ چمن یونہی رہے گا28 January, 2007 | قلم اور کالم اللہ جانے یہ کیا ہے؟20 January, 2007 | قلم اور کالم ڈرتا ہوں آدمی سے کہ مردم گزیدہ ہوں 14 January, 2007 | قلم اور کالم ’جس سے ملیئے اسے خفا کیجئے‘07 January, 2007 | قلم اور کالم ’بالغ ہونے کے لیئے کتنا وقت‘19 November, 2006 | قلم اور کالم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||