’انصاف مل سکتا ہے تو بھگوان سے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسئلہ یہ ہے کہ پچھلے ساٹھ برس میں پاکستان میں اداروں کو مستحکم کرنے اور انہیں حدود و قیود کا احساس دلانے کی روایت چونکہ نہیں پڑ سکی اس لیے جب بھی اس ملک کو کوئی بحران درپیش ہوتا ہے تو پورا ملک ایک ریل گاڑی میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ انجن خراب ہوجائے تو متبادل لوکوموٹو کا پتہ نہیں چلتا کہ کہاں سے آئے گا۔سگنل گڑبڑ ہوجائے تو ٹرین رکتی ہے اور کسی ایک ڈبے کا دوسرے سے جوڑ ٹوٹ جائے تب بھی ٹرین رک جاتی ہے۔ ایسے حالات میں چیف آف آرمی سٹاف اور مسلم لیگ ق کے رہبرِ اعلی صدرِ مملکت جنرل پرویز مشرف نو مارچ کو اگر چیف جسٹس سے راولپنڈی کے کیمپ آفس المعروف آرمی ہاؤس میں باوردی ملاقات نہ کرتے تو اور کیا کرتے۔ آپ خود سوچئے کہ اگر وزیرِ اعظم کے دفتر سے یہ شکایت آئے کہ اسٹیل مل کی نجکاری کے فیصلے کی تنسیخ کے سبب پاکستان میں سرمایہ کاری اور نجکاری کے جاری عمل کو دھچکا لگا ہے اور خریداروں کا اعتماد مجروح ہوا ہے۔اسکے علاوہ اعلی عدالت جس کثرت سے مختلف انتظامی معاملات کا ازخود نوٹس لے رہی ہے اس سے روزمرہ سرکاری امور میں رخنہ پڑ رھا ہے۔ اگر فوج کے زیرِ انتظام ادارے یہ شکایت کریں کہ غائب ہونے والے افراد کے مقدمات کی کھلی سماعت اور اس ضمن میں خفیہ کے اہلکاروں کو عدالتی نوٹس کے اجرا سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان اداروں کی توجہ بٹ رہی ہے اور ملکی و غیرملکی میڈیا میں ان مقدمات کی تشہیر سے حکومت کے نام کو بٹہ لگ رہا ہے۔
اگر حکمران مسلم لیگ یہ شکایت کرتی ہے کہ سپریم کورٹ جس طرح سے بسنت منانے جیسے معاملات کا فیصلہ کررہی ہے اسکے نتیجے میں حکومت کی یہ مہم متاثر ہورہی ہے کہ پاکستان میں صرف انتہا پسندی اور ملا ازم نہیں بلکہ روشن خیالی، اعتدال پسندی اور زندگی کی رنگارنگی بھی موجود ہے۔ ایسی شکایات اگر تواتر کے ساتھ صدرِ مملکت کے سامنے آتی رہیں تو آپ خود دل پر ہاتھ رکھ کے بتائیں کہ آپ اگر صدارت کی کرسی پر ہوتے تو کیا کرتے۔ جسٹس افتخار چوہدری کے پاس تو عدالتِ عظمی کے سربراہ کے طور پر دوہزار تیرہ تک کا وقت موجود تھا۔لیکن حکومت کو تو یہ بھی اندازہ نہیں کہ اگلے بارہ ماہ کے دوران ملکی اور علاقائی اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اور سرکاری ایجنڈے میں کتنے رنگ بھرے جا سکیں گے۔ اس لئے معاملات سے فوری انداز میں نمٹنا مشرف حکومت کی ازبس مجبوری تھی۔ چنانچہ تختہ الٹ دیا گیا۔ مشکل صرف یہ ہے کہ دو اقدامات ایسے ہوتے ہیں جو اگر کامیاب نہ ہوں تو ایف آئی آر کٹ سکتی ہے۔یعنی خودکشی اور تختہ الٹنے کی کوشش۔ جسٹس چوہدری کے معاملے میں تختے کے دو پائے تو ہوا میں اٹھ گئے لیکن بقیہ دو سے سرکاری اندازوں کے برعکس وکلا ، شہری حقوق کے کارکن اور میڈیا والے جھول گئے۔
یہ ایسی کربناک صورتحال ہے جس سے نہ صرف کاروبارِ حکومت بلکہ کاروبارِ عدلیہ بھی متاثر ہورھا ہے۔حکومت کی ساری توانائی تختے کے دو پائے چھڑانے میں صرف ہورہی ہے جبکہ نچلی عدالتوں سے عدالتِ عظمی تک ہزاروں مقدمات کی سماعت رکی ہوئی ہے۔وکلاء باہر ہیں اور سائل اندر ۔ سب سے زیادہ قابلِ رحم صورتحال سیاسی جماعتوں کی ہے۔ سوویت یونین کے مردِ آہن جوزف سٹالن نے ایک مرتبہ کہا تھا ’انتخابات میں یہ بات بے معنی ہے کہ کتنے ووٹ پڑتے ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ گننے والا کون ہے۔‘ لگتا ہے پاکستان کی سیاسی جماعتیں پچھلے پچیس برس سے ملک پر نافذ سٹالن کے اس جمہوری فارمولے کو زندگی کی حقیقت کے طور پر ہضم کرچکی ہیں اور انیس سو تراسی کی ایم آر ڈی تحریک کے بعد سے یاد ہی نہیں کہ سیاست میں سڑک کی کیا اہمیت ہے۔انہیں صرف اسلام آباد کی شاہراہ دستور یاد ہے جو ایوانِ صدر سے شروع ہوتی ہے اور وہیں ختم ہوتی ہے۔سیاسی جماعتوں کی اسی بیگانگی نے انہیں آج کے بحران میں ایلس ان ونڈر لینڈ بنا دیا ہے۔ تو پھر کمبل سے گلوخلاصی کی صورت کیا ہے۔ موجودہ بحران آخر کیسے حل ہوگا؟ اس سوال کی روشنی میں ان دنوں پاکستان میں موبائل فون پر ایک ایس ایم ایس گردش کررہا ہے۔ ’اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سولہ کروڑ عوام کو اگر کسی سے انصاف مل سکتا ہے تو صرف بھگوان سے مل سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘ | اسی بارے میں ’امریکہ نے تمام مواقع گنوا دیئے‘11 February, 2007 | قلم اور کالم ’سافٹ امیج‘ ابھارنے کی کوشش 18 February, 2007 | قلم اور کالم یہ چمن یونہی رہے گا28 January, 2007 | قلم اور کالم اللہ جانے یہ کیا ہے؟20 January, 2007 | قلم اور کالم ڈرتا ہوں آدمی سے کہ مردم گزیدہ ہوں 14 January, 2007 | قلم اور کالم ’جس سے ملیئے اسے خفا کیجئے‘07 January, 2007 | قلم اور کالم ’بالغ ہونے کے لیئے کتنا وقت‘19 November, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||