گھر سے اٹھا ہے فتنہ: وسعت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وہ جو کہتے ہیں نا کہ جب ستارے گردش میں ہوں تو چلتے اونٹ پر بیٹھے ساربان کو بھی کتا کاٹ لیتا ہے۔حالات تقریباً ایسے ہی ہیں۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کو دیمک لگ گئی ہے۔ اور صدر پرویز مشرف ان لوگوں کی تلاش میں ہیں جنہوں نے انہیں تالاب میں دھکا دیا ہے۔ میرے دفتر کے خانساماں رحمت صاحب کا خیال ہے کہ پیپلز پارٹی اور جنرل صاحب کے درمیان فاصلے برقرار رکھنے کے لیے چودھریوں نے ایک بار پھر ہاتھ دکھا دیا ہے۔ جب میں رحمت صاحب سے پوچھتا ہوں کہ کون سے چودھری؟ تو وہ مجھے ایسے دیکھتے ہیں جیسے گدھے کو۔ آپ کو شاید یاد ہو کہ صدر پرویز مشرف نے اپنی سوانح حیات میں تذکرہ کیا ہے کہ جب نواز شریف نے جنرل جہانگیر کرامت کو فوج کی سربراہی سے ہٹایا تو اعلٰی فوجی قیادت نے دل ہی دل میں تہیہ کرلیا تھا کہ آئندہ فوج کے سربراہ کی اس طرح سے بے توقیر رخصتی برداشت نہیں کی جائے گی۔چنانچہ جب جنرل مشرف کو اس وقت برطرف کرنے کی کوشش کی گئی جب وہ ہوا میں معلق تھے تو فوج کا خودکار نظام اپنے چیف کو بچانے کے لیے حرکت میں آ گیا۔ جنرل صاحب کو بحفاظت نیچے اتار لیا گیا اور نواز شریف کو اٹھا لیا گیا۔
مجھے جانے کیوں لگتا ہے کہ جس طرح چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو نکالا گیا تھا۔اس واقعہ کے بعد آنے والے چیف جسٹسوں نے شاید دل ہی دل میں طے کرلیا تھا کہ بہت ہوچکا۔ دیکھنا صرف یہ ہے کہ بندوق کے بجائے قلم سے مسلح عدلیہ انصاف کے کنٹرول ٹاور پر کتنی دیر پیر ٹکائے رہتی ہے۔ آج مرحوم وزیرِ اعظم محمد خان جونیجو کی چودھویں برسی بھی ہے۔غالباً وہ آخری برسراقتدار سیاستداں تھے جن کی ریڑھ کی ہڈی کام کرتی تھی۔ ان کی برطرفی کے بعد سے تاحال جوڑ توڑ، سمجھوتے، راہِ فرار، سہل پسندی، شارٹ کٹ ذہنیت، کیمرے کے سامنے بھاشن بازی، پریس کانفرنس کلچر اور پیاز کی مہنگائی سے صدر کی وردی تک ہر معاملے پر کسی بھی شہر یا قصبے میں کل جماعتی کانفرنس کے ناٹک کے سوا سیاست میں کچھ اور دکھائی نہیں دیتا۔ شاید اسی سبب پہلی مرتبہ یوں لگ رہا ہے کہ مزاحمت کا ہراول دستہ وکلاء، صحافیوں اور شہری حقوق کے کارکنوں پر مشتمل ہے اور سیاستداں ان کے پیچھے پیچھے ہیں۔اور ان میں سے بھی کئی مڑ مڑ کے دیکھتے ہوئے چل رہے ہیں۔
نیم فوجی حکومت جو پچھلے سات برس کی ہر سختی جھیل گئی، پہلی مرتبہ اس کو سجھائی نہیں دے رہا کہ موجودہ کمبل سے کیسے جان چھڑائے۔اب تک تو وزیرستان کی شورش کا سبب القاعدہ اور طالبان کو، بلوچستان کی بےچینی کا سبب تین سرداروں کو اور آئینی و جمہوری مسائل کا سبب حزبِ اختلاف کی منفی سیاست کو قرار دے کر ہاتھ جھاڑ لیے جاتے تھے۔لیکن پہلی مرتبہ ایسا ہورہا ہے کہ حکومت کو موجودہ بحران کا ملزم نہیں مل پارہا۔اور حکومت صرف ’چور چور چور لینا پکڑنا‘ کا شور مچا رہی ہے۔ اس ہڑابڑی میں نوبت اگر یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ایک پولیس سب انسپکٹر اپنے تیرہ ماتحت سپاہیوں کے ہمراہ اعلٰی حکام کو بتائے بغیر کسی بھی ٹی وی چینل کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیتا ہے تو پھر واقعی صدر مشرف کو پریشان ہونے کی اشد ضرورت ہے۔ کہیں باہر سے نہیں گھر سے اٹھا ہے فتنہ کیا تلافی کی ہے اب بھی کوئی صورت باقی | اسی بارے میں ’امریکہ نے تمام مواقع گنوا دیئے‘11 February, 2007 | قلم اور کالم ’سافٹ امیج‘ ابھارنے کی کوشش 18 February, 2007 | قلم اور کالم یہ چمن یونہی رہے گا28 January, 2007 | قلم اور کالم اللہ جانے یہ کیا ہے؟20 January, 2007 | قلم اور کالم ڈرتا ہوں آدمی سے کہ مردم گزیدہ ہوں 14 January, 2007 | قلم اور کالم ’جس سے ملیئے اسے خفا کیجئے‘07 January, 2007 | قلم اور کالم ’بالغ ہونے کے لیئے کتنا وقت‘19 November, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||