صدر، ماسی اور صحبت علی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بجٹ کے موقع پر جاری ہونے والے اکنامک سروے کے مطابق میرے گھر پر کام کرنے والی ماسی ، صحبت علی چوکیدار اور پرویز مشرف کی فی کس آمدنی اب نو سو چھبیس ڈالر سالانہ ہوگئی ہے۔یعنی پاکستانی کرنسی میں چھیالیس سو تیس روپے ماہانہ۔ مجھے اس حکومتی دعوٰی پر اس لیے یقین ہے کیونکہ بجٹ تقریر میں ایک کارکن کی کم ازکم تنخواہ بھی چھیالیس سو روپے ماہانہ مقرر کی گئی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ماسی میرے فلیٹ سمیت پانچ گھروں میں کل ملا کے بارہ گھنٹے کام کرتی ہے۔ ہرگھر سے اسے پانچ سو روپے ملتے ہیں اور یوں اسے مہینے کے ڈھائی ہزار روپے میسر آتے ہیں۔ صحبت علی چوکیدار رات سے صبح تک میرے کمپاؤنڈ میں دس گھنٹے ڈنڈا پکڑ کے گھومتا ہے اور اس کے عوض اسے کمپاؤنڈ کی انتظامیہ ہر ماہ ساڑھے تین ہزار روپے دیتی ہے۔ صدرِ مملکت کی اوسط آمدنی بھی پاکستانی شہری کے طور پر نو سو چھبیس ڈالر سالانہ ہوگئی ہے لیکن ان کی سیکیورٹی، آمد و رفت، رہن سہن اور بربنائے منصب مراعات کے مجموعی ماہانہ اخراجات جتنے بھی بنتے ہیں ان تک پہنچنے کے لئے صحبت علی چوکیدار اور کام والی ماسی کو تقریباً ایک ہزار برس تک بلا ناغہ کام کرنا پڑے گا۔ اس فرق کے بعد بھی صدرِ مملکت بطور ایک فوجی افسر چاہیں تو قومی ائرلائن کے طیارے اور ٹرین میں ٹکٹ کی دس سے پچیس فیصد قیمت کا رعائتی پاس بنوا کر سفر کر سکتے ہیں۔ ان پر ٹول ٹیکس کا بھی اطلاق نہیں ہو سکتا جبکہ صحبت علی چوکیدار اور ماسی کو طیارے سے لے کر کوچ تک ہر جگہ پورا ٹکٹ دینا پڑےگا۔ آپ چاہیں تو میری اب تک کی تحریر پڑھنے کے بعد مجھے بلاتکلف ایک پاگل قرار دے سکتے ہیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں ماسی، صحبت علی چوکیدار اور صدرِ مملکت کے موازنے کی کیا تک ہے۔ تینوں کرداروں کے ماحول، صلاحیت، قابلیت اور ذمہ داریوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ماسی اور صحبت علی نہ صرف ان پڑھ ہیں بلکہ غیر ہنرمند ہونے کے سبب صرف جسمانی محنت کرنے کے قابل ہیں۔جبکہ خطرات میں گھرے صدرِ مملکت کے کاندھوں پر پورے ملک کا بوجھ ہے۔ میں آپ کے تمام ممکنہ اعتراضات بلاحجت تسلیم کرلوں گا۔ بس ایک درخواست ہے۔ آئندہ مجھے کوئی یہ نہ بتائے کہ شمالی افریقہ سے ایران تک کے علاقے پر حکمراں عمر بن خطاب کی فی کس آمدنی اس بدو کے برابر تھی جس نے بھرے مجمع میں ان کے گریبان پر یہ کہہ کے ہاتھ ڈال دیا تھا کہ جب مالِ غنیمت میں سے میرے حصے میں صرف ایک چادر آئی تو تُو نے دو چادروں کا کرتا کیسے بنا لیا۔ کوئی یہ قصہ نہ سنائے کہ جب خاتونِ اول نے بیت المال سے آنے والے راشن میں سے کچھ راشن بچا کر ایک دن میٹھے کی اضافی ڈش بنا لی تو خلیفہ ابوبکر نےگھر کے لیے سرکاری راشن کی مقدار ہی کم کروا دی۔ کوئی مجھے یہ واقعہ سنا کر متاثر کرنے کی کوشش نہ کرے کہ حضرت علی ایوانِ خلافت میں بھی جو کی سوکھی روٹی نرم کرنے کے لیے پانی میں بھگو دیتے تھے اور اسے کھاتے ہوئے بھی ان کا ہاتھ جواب دہی کے خوف سے لرزتا رہتا تھا۔ آپ بس امامِ کعبہ کو بلوا کر درازی اقتدار کی دعا کرواتے رہیے اور فی کس آمدنی نوسو چھبیس ڈالر سالانہ اور زرِ مبادلہ کے ذخائر پندرہ ارب ڈالر ہونے کی نوید سناتے رہیے۔ میں کبھی بھی صحبت علی اور ماسی کو نہیں بتاؤں گا کہ انکی سالانہ آمدنی کتنی بڑھ چکی ہے۔کہیں مانگ ہی نہ بیٹھیں۔ |
اسی بارے میں گھر سے اٹھا ہے فتنہ: وسعت18 March, 2007 | قلم اور کالم ’انصاف مل سکتا ہے تو بھگوان سے‘25 March, 2007 | قلم اور کالم کہیں نمبر تو نہیں بدل گیا؟08 April, 2007 | قلم اور کالم اپنے کیے کا کوئی علاج15 April, 2007 | قلم اور کالم ہمارے سیاسی قبائل22 April, 2007 | قلم اور کالم آفریں آفریں06 May, 2007 | قلم اور کالم ’قصور جسٹس چودھری کا ہے‘13 May, 2007 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||