اپنے کیے کا کوئی علاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب یونیورسٹی میں ایک لڑکے اور لڑکی کی اس بات پر ٹھکائی ہوگئی کہ وہ ایک دوسرے کے قریب کیوں بیٹھے ہوئے تھے۔ پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس میں فارمیسی فیسٹیول کے اختتام پر ہونے والے ثقافتی میوزیکل شو میں تین بسوں میں بھر کر آنے والے لوگ اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے ہوئے گھس گئے۔ کرسیاں، شیشے اور پروجیکٹر ٹوٹ گئے۔ایک بھگدڑ مچ گئی۔ اسلام آباد کی نواحی بستی بارہ کہو میں کچھ باریش نوجوانوں نے ایک وڈیو شاپ سے سی ڈیز نکال کر جلا ڈالیں۔ اسلام آباد میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی ( سی ڈی اے) اور ایک منہدم غیر قانونی مسجد الصفہ کی انتظامیہ کے مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے۔ سی ڈی اے نے مسجد کے لیے متبادل جگہ کی پیش کش کی ہے لیکن حکمراں مسلم لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کی قائم کردہ مصالحتی کمیٹی کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ مسجد وہیں بنائی جائے جہاں وہ اس وقت ہے۔
صوبہ سرحد کے شہر لکی مروت میں ایک جرگے نے اس مسلح گروہ کی مذمت کی ہے جس نے ایک بارات میں جانے والے رقاصوں کو پکڑ کر مارا پیٹا، یرغمال بنایا اور ان کا سر اور مونچھیں مونڈ ڈالیں۔ جرگے نے ان لوگوں کی بھی مذمت کی جو سڑک کے کنارے کھڑے ہوجاتے ہیں اور جس گاڑی میں بھی ٹیپ ریکارڈر ہوتا ہے اسے نکال کر ہتھوڑے سے کوٹ ڈالتے ہیں۔ اس جرگے میں صوبائی رابطے کے وفاقی وزیر سلیم سیف اللہ نے بھی شرکت کی۔ باجوڑ کے علاقے خار میں کچھ لوگوں نے ایسے بیس لوگوں کو پیٹا جنہوں نے پرندوں کی دوڑ پر شرطیں لگا رکھی تھیں۔ صوبہ سرحد کے پولیس چیف شریف ورک کا کہنا ہے کہ یہ طالبان کا کام نہیں ہے کہ لڑکیوں کے سکولوں، وڈیو شاپس یا حجاموں کو تحریری دھمکیاں دیں بلکہ یہ کام علاقے کے جرائم پیشہ افراد کا ہے۔ یہ ساری خبریں پچھلے پانچ روز میں شائع ہوئی ہیں۔ ایک بات سمجھ میں نہیں آتی کہ میوزک، یونیورسٹی کی مخلوط نشستیں، حجامت، لڑکیوں کی تعلیم، رقص، فلم بینی وغیرہ ایوب خان، یحیٰی اور بھٹو کے زمانے میں بھی ہوتی تھی۔ مساجد بھی آباد تھیں۔ مذہبی مدارس بھی بھرے ہوئے تھے۔علماء بھی فعال تھے۔ لیکن اس وقت دھمکیوں، ڈنڈوں، توڑ پھوڑ اور مارپیٹ کا رحجان وبائی شکل میں کیوں نہیں تھا۔ کیا اس زمانے کے علماء کمزور عقیدے کے تھے یا آج مذہب کے نام پر جہالت زیادہ فروغ پارہی ہے۔ بات شاید یہ ہے کہ مذہی تنگ نظری کا یہ وائرس جس سے آج چھینکیں آ رہی ہیں۔ یہ وہ وائرس ہے جسے خودغرضی کی اینٹوں اور یک رخے گارے سے اٹھائی گئی ریاض، راولپنڈی، وائٹ ہاؤس اور وائٹ ہال کی لیبارٹریوں میں تیار کیا گیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ اس وائرس کو ملحدوں اور کیمونسٹوں کے خلاف کنٹرولڈ طریقے سے استعمال کرکے تلف کردیں گے۔ لیکن فلسطین، افغانستان اور عراق کو جب جوہڑ میں تبدیل کردیا گیا تو اس وائرس کو نہ صرف افزائش کا موقع میسر آگیا ہے بلکہ قوتِ مدافعت بھی دوگنی ہوگئی۔ اب جبکہ وائرس قابو سے باہر ہے تو سول سوسائٹی کی ویکسینیشن کرنے کے بجائے اسے پین کلرز اور نیند کی ایکسپائرڈگولیاں فراہم کی جارہی ہیں اور توقع کی جارہی ہے کہ اس وائرس کو دوبارہ لیبارٹری جار میں ڈالنے کے لیے وہ عام آدمی مدد کرے جسے یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ وائرس کس نے اور کیوں چھوڑا تھا۔ ’کیوں ڈھونڈھ رہے ہو کسی دیوار کا سایہ |
اسی بارے میں ’امریکہ نے تمام مواقع گنوا دیئے‘11 February, 2007 | قلم اور کالم کاربن گیس اسامہ سے خطرناک04 February, 2007 | قلم اور کالم پوپلوں کا کلب25 February, 2007 | قلم اور کالم گھر سے اٹھا ہے فتنہ: وسعت18 March, 2007 | قلم اور کالم مجھے کچھ ہوگیا ہے: وسعت اللہ خان01 April, 2007 | قلم اور کالم ’انصاف مل سکتا ہے تو بھگوان سے‘25 March, 2007 | قلم اور کالم کہیں نمبر تو نہیں بدل گیا؟08 April, 2007 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||