کاربن گیس اسامہ سے خطرناک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جیسے ہی گرمیوں میں سکول بند ہوتے تھے ہم اس امید پر کراچی کی طرف بھاگتے تھے کہ جولائی اگست کی برساتوں میں خوب چھینٹے اڑائیں گے اور بادلوں نے بھی ہم بچوں کو کبھی مایوس نہیں کیا۔ باقاعدگی سے دو ماہ برستے تھے۔ آج تیس برس بعد بھی موسمِ گرما کی سکول کی چھٹیاں ہوتی ہیں مگر اب باقاعدہ بارش نہیں ہوتی۔ بس ایک برس چھوڑ کر آسمان سے ایک آدھ ہفتے کا آبی عذاب اترتا ہے اور پھر سال بھر کے لیے فلک پر سناٹا طاری ہوجاتا ہے۔ پاکستان میں اب سے بیس برس پہلے تک اگست اور ستمبر آتے ہی دریا کے کنارے ٹوٹنے کے لیے مچل پڑتے تھے۔ لاکھوں ایکڑ زمین زیرِ آب آ جاتی تھی اور ہزاروں بے گھر ہوجاتے تھے لیکن قریباً دس برس سے ہمالیہ کے گلیشیرز میں اتنی برفیلی سکت نہیں رہی کہ دریاؤں کو من مانی اٹھکیلیوں کے لیے وافر پانی دے سکیں۔ جمعرات کو میرے ایک دوست نے جنیوا سے بہت عرصے بعد فون کیا۔ کہنے لگا جن کا روزگار سکیئنگ سے وابستہ ہے وہ اس سال سخت پریشان ہیں کیونکہ آسٹریا، سوئٹزر لینڈ اور فرانس کے پہاڑوں پر دسمبر اور جنوری میں بس اتنی برف پڑی ہے جتنے کسی برص کے مریض کے جسم پر سفید داغ ہوتے ہیں۔ معلوم نہیں اگلا برس کیسا گزرے گا۔ ہمارے ریفریجریٹرز، گاڑیوں، کوئلے کے بجلی گھروں، اینٹوں کے بھٹوں، ریفائنریوں، دھواں اگلتی فیکٹری کی چمنیوں سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے نتیجے میں پچھلے دو سو برس میں جتنا درجہ حرارت بڑھا ہے چھ ہزار برس میں نہیں بڑھا۔
چنانچہ انٹار کٹیکا اور گرین لینڈ کے لاکھوں برس سے ساکت گلیشیرز پگھلنا شروع ہوگئے ہیں۔ قطبِ شمالی کے اردگرد بحیرہ آرکٹک کی ساری برف اگلے پچاس برس میں پانی ہوجائے گی۔ سمندر کی سطح آہستہ آہستہ بڑھنے کےنتیجے میں اگلے پچاس برس میں چالیس فیصد بنگلہ دیش غائب ہوجائے گا اور سیشلز، ماریشس اور مالدیپ جیسے جزائر تاریخ کی کتابوں میں ملیں گے۔ اس وقت امریکہ، یورپی یونین اور چین دنیا کی تین سب سے بڑی صنعتی فیکٹریاں ہیں جو عالمی صنعت کا چھپن فیصد مال بناتی ہیں اور اکاون فیصد نقصان دہ گیس خارج کرتی ہیں۔ یورپی یونین اور چین بظاہر عالمی ماحولیاتی تباہی میں اپنے کردار کا دبے دبے انداز میں اعتراف کرنے لگے ہیں لیکن سب سے بڑا آلودہ کار امریکہ جو پچیس فیصد عالمی آلودگی کا ذمہ دار ہے اس کا رویہ آج تک یہ ہے کہ سانوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟۔ امریکہ نے دس برس پہلے وعدہ کیا تھا کہ وہ صنعتی گیسوں کے اخراج میں ملکی سطح پرچھ فیصد تک کمی لانےکی کوشش کرے گا مگر ہوا یوں کہ وہاں اب نو فیصد اور زیادہ گیسیں خارج ہورہی ہیں۔ صدر بش کو کون سمجھائے گا کہ کاربن ڈائی اوکسائیڈ اسامہ بن لادن سے زیادہ خطرناک ہے۔ |
اسی بارے میں یہ چمن یونہی رہے گا28 January, 2007 | قلم اور کالم اللہ جانے یہ کیا ہے؟20 January, 2007 | قلم اور کالم ڈرتا ہوں آدمی سے کہ مردم گزیدہ ہوں 14 January, 2007 | قلم اور کالم ’جس سے ملیئے اسے خفا کیجئے‘07 January, 2007 | قلم اور کالم ’بالغ ہونے کے لیئے کتنا وقت‘19 November, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||