پوپلوں کا کلب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگست انیس سو انہتر کی ایک صبح ہمارے پرائمری سکول کے ہیڈ ماسٹر عبدالرحیم صاحب نے تلاوت اور قومی ترانے کے بعد یہ اعلان کیا کہ بچو آج ایک بہت بڑی خوشخبری ہے۔ مراکش کے شہر رباط میں سب مسلمان ممالک کے سربراہوں نے اعلان کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ میں آگ لگانے والے یہودی ملک اسرائیل کو سخت سزا دی جائے گی۔ فلسطین آزاد کرایا جائے گا اور پھر کشمیر آزاد کرایا جائےگا۔اس پر سب بچوں نے ماسٹر عبدالرحیم کے لیے اتنی تالیاں بجائیں کہ ہتھیلیاں سرخ ہوگئیں۔ اس دن سے آج تک تیرہ اسلامی سربراہ کانفرنسیں اور لاتعداد وزارتی اجلاس ہو چکے ہیں۔ چکنے کاغذ کے ہزاروں رم ان کانفرنسوں کے اعلان ناموں اور منصوبوں کی اشاعت پر اور کروڑوں ڈالر ان اجلاسوں کے انتظامات پر صرف ہوگئے۔
اس عرصے میں کانفرنس کا ایک اہم رکن پاکستان دو ٹکڑے ہوگیا۔ کئی ارکان نے اسرائیل سے سفارتی اور تجارتی تعلقات قائم کرلیے۔ لبنان پندرہ سالہ خانہ جنگی میں ایک بار ٹوٹ پھوٹ کر کھڑا ہوگیا اور اب پھر گھٹنوں کے بل بیٹھ رہا ہے۔ افغانستان کی کئی بار اینٹ سے اینٹ بج گئی۔دو ارکان یعنی ایران اور عراق نے ایک دوسرے کے دس لاکھ سے زائد فوجی اور سویلین مارڈالے۔ کویت پر عراق نے اور عراق پر امریکہ نے قبضہ کرلیا۔فلسطینیوں کو کئی مرتبہ آزادی کا لالی پاپ دکھایا گیا۔دو انتفادہ گزر گئے اور تیسرا تیار ہے۔ بوسنیا میں قتلِ عام ہوگیا۔صحارا کو مراکش ہڑپ کرگیا۔ سوڈانی دارفور سے لاکھوں لوگ پناہ گزیں بن کر نکل لیے۔ کشمیر میں پندرہ برس سے جاری شورش شروع ہو کر خود ہی تھم گئی۔ لیکن مجال ہے کہ ان اڑتیس برس کے دوران اسلامی کانفرنس کے ماتھے پر پسینہ آیا ہو۔آج بھی چھپن ممالک بڑے جوش کے ساتھ ہر کچھ عرصے بعد اکھٹے ہوتے ہیں۔سائیکلوسٹائیل گفتگو کرتے ہیں اور لوٹ جاتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ دسمبر دوہزار پانچ میں مکہ میں اسلامی کانفرنس کے غیر معمولی سربراہ اجلاس میں ایک تجویز یہ بھی منظور ہوئی تھی کہ مسلمان ملکوں میں انسانی حقوق کے حالات بہتر بنانے کے لیے ایک مستقل ادارہ قائم کیا جائے۔ اس تجویز کو دو برس سے زائد ہوگئے۔اس دوران جانے کتنے لوگ پاکستان نے امریکہ کے حوالے کئے اور جانے کتنے لوگ راز اگلوانے کے لیے امریکی سی آئی اے نے اردن اور مصر کو تفتیشی ٹھیکے پر دئیے۔ یہ تینوں ممالک اسلام آباد میں ہونے والے ہم خیال مسلمان وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شریک ہوئے ہیں۔ سعودی عرب بھی شریک تھا جسے اسرائیل کے ایٹمی پروگرام سے زیادہ ایرانی جوہری پروگرام پر تشویش ہے۔ترکی بھی تھا جس کا اسرائیل سے فوجی تعاون کا سمجھوتہ ہے اور ملیشیا اور انڈونیشیا بھی جو جنوب مشرقی ایشیا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ہراول دستہ ہیں۔ یہ اجلاس فلسطین، عراق، لبنان اور امریکہ اور ایران کے تنازعے کو حل کرانے کے طریقے سوچنے کے لیے بلایا گیا ۔مگرجن کے لیے اجلاس ہوا ان میں سے کوئی بھی نہیں تھا۔ تو اس تناظر میں کیا یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ اسلامی کانفرنس کی تنظیم دراصل ایسے پوپلوں کا کلب ہے جو اخروٹ کھانے کے بےحد شوقین ہیں۔ | اسی بارے میں اللہ جانے یہ کیا ہے؟20 January, 2007 | قلم اور کالم یہ چمن یونہی رہے گا28 January, 2007 | قلم اور کالم کاربن گیس اسامہ سے خطرناک04 February, 2007 | قلم اور کالم ’سافٹ امیج‘ ابھارنے کی کوشش 18 February, 2007 | قلم اور کالم ’امریکہ نے تمام مواقع گنوا دیئے‘11 February, 2007 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||