’چاچا وردی لاہندا کیوں نئیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میرے والد بتاتے ہیں کہ سن پینسٹھ کی لڑائی کے دوران ایک دن محاز پر جانے والے مسلح فوجیوں کا ایک کانوائے رحیم یار خان شہر سے گزرا۔ لوگوں نے اس کانوائے کو گھیر لیا اور پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگانے شروع کردیے۔ کچھ لوگوں نے فوجیوں کے منع کرنے کے باوجود زندہ بکرے اور مرغیاں ٹرکوں میں ڈالنی شروع کردیں۔ دو گوالوں نے اپنی سائیکلیں کنارے کھڑی کیں اور پیتل کے بڑے بڑے بھگونوں سے دودھ نکال کر زبردستی فوجیوں کو پلانے لگے۔ کسی کا اور بس نہ چلا تو سامنے کی دوکان سے جتنے پھل خرید سکتا تھا خریدے اور انہیں ٹرک میں بیٹھے فوجیوں کی گود میں پڑے ہیلمٹوں میں ڈال دیا۔ ایک بزاز مہردین تو اتنا جذباتی ہوگیا کہ اس نے پاپلین کے آٹھ دس تھان فوجی جیپوں اور ٹرکوں میں پھینک دیے۔ان کے افسر نے مہردین کو سمجھانے کی کوشش کی کہ یار ہم جنگ لڑنے جارہے ہیں شادی پر نہیں جارہے۔ اتنی ساری پاپلین کا کیا کریں گے۔ مگر مہردین نے جیسے کانوں میں روئی ٹھونس لی۔ کہنے لگا بس جی لے جاؤ۔۔۔اور کچھ نہیں تو کسی زخمی کے لیے پٹیاں بنا لینا۔ اپنی بندوقیں صاف کرنے کے پھلترو بنا لینا۔۔۔۔بس مجھے منع نہ کرو۔۔۔خدا تمہارا حامی و ناصر ہو۔ میرے والد نے بتایا کہ یہ جو بگا ملنگ تھا (اللہ اسے جنت نصیب کرے) یہ بھی وہیں کہیں بھیک مانگ رہا تھا۔اس نے جب دیکھا کہ ساری خلقت فوجیوں پر راشن پانی لے کے ٹوٹ پڑی ہے تو بگے ملنگ کی بھی غیرت جاگی اور اس نے اپنے چوغے سے مٹھی بھر کے مڑے تڑے نوٹ نکالے اور ٹرکوں سے اترنے والے دوتین فوجیوں کی جیب میں ٹھونس دیے اور یاعلی مدد کے نعرے لگاتے ہوئے اپنے کشکول میں موجود کھلے پیسے ہوا میں اچھال دیے۔
جنگ جاری رہی اور اس دوران ایک فوجی یونٹ نے عیدگاہ کے نزدیک عارضی پڑاؤ ڈال دیا۔ لوگوں نے ان سے ذرا فاصلے پر دیگیں چڑھا دیں۔ کبھی کبھی فوجی زبردستی کی اس مہمان نوازی سے چڑ بھی جاتے تھے۔ تو لوگ منت سماجت کر کے پکی ہوئی دیگیں ان کے پاس چھوڑ جاتے۔ جب فوجیوں نے حفاظتی خندقیں کھودنی شروع کیں تو لوگوں نے ان سے پھاوڑے چھین لیے اور خود خندقیں کھودنے لگے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹیاں بننی شروع نہیں ہوئی تھیں۔ عسکری بینک، عسکری بیکری، عسکری منرل واٹر، عسکری ڈیری فارم، آئی ایس آئی، ایم آئی اور پولٹیکل سیل جیسی اصطلاحات نہ فوجیوں کی روزمرہ زبان میں شامل ہوئی تھیں اور نہ ہی سویلین ڈ کشنری کا حصہ بنی تھیں۔ بھلا ہو یحیٰی خان سے لے کر پرویز مشرف تک آنے والوں کا۔ جنہوں نے رفتہ رفتہ یہ سبق دیا کہ لڑائی بھڑائی اچھی چیز نہیں ہوتی۔ فوج کسان، سیکیورٹی گارڈ ، صنعت کار، سٹیٹ ایجنٹ، بینکر، ٹرانسپورٹر، ٹھیکیدار اور مینیجرز بن کے بھی تو ملک کی خدمت کرسکتی ہے۔ مگر سن پینسٹھ میں پاک فوج کے لیے آنکھیں بچھانے والوں کی اولادوں کو جانے ایسی کونسی بات بری لگ گئی ہے کہ وہ ان دنوں اس طرح کے نعرے لگا رہے ہیں: چاچا وردی لاہندا کیوں نئیں |
اسی بارے میں گھر سے اٹھا ہے فتنہ: وسعت18 March, 2007 | قلم اور کالم ’انصاف مل سکتا ہے تو بھگوان سے‘25 March, 2007 | قلم اور کالم کہیں نمبر تو نہیں بدل گیا؟08 April, 2007 | قلم اور کالم اپنے کیے کا کوئی علاج15 April, 2007 | قلم اور کالم ہمارے سیاسی قبائل22 April, 2007 | قلم اور کالم آفریں آفریں06 May, 2007 | قلم اور کالم ’قصور جسٹس چودھری کا ہے‘13 May, 2007 | قلم اور کالم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||