آفریں آفریں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مجھے ایسی حکومت سے انتہائی ہمدردی ہے جسے ایک ساتھ سب بُرا بھلا کہہ رہے ہیں۔ ان میں سرکاری اسکولوں کے اساتذہ، صفائی کا بلدیاتی عملہ، مزارعے، پٹواری، ناظمین اور ضلعی حکومتوں کے ملازمین بھی شامل ہیں جنہیں شدید گرمی میں صدرِ مملکت کے جلسوں یا چیف جسٹس مخالف جلوسوں میں لازمی شرکت پر مجبور کیا جاتا ہے۔ وہ مسافر مرد، عورتیں اور بچے بھی بے نقط سنا رہے ہیں جنہیں بیچ سڑک پر اتار کر ویگن یا بس کو ڈرائیور سمیت یرغمال بنا لیا جاتا ہے اور پھر یہ ڈرائیور بھی تین تین دن تک دہاڑی اور رہائی نہ ملنے کے سبب، اپنے پکڑنے والوں کے رشتے داروں کے فضائل ایک دوسرے کے کانوں میں گنوا کر وقت کاٹتے ہیں۔ جو پولیس والے پل، سڑک اور ناکے بند کرکے ٹریفک جام کررہے ہیں انہیں سکول و کالج نہ پہنچنے والے طلبا، دکان نہ کھولنے والے کاروباری اور بروقت نوکری پر نہ پہنچنے والے ملازمین گالیاں دے رہے ہیں اور جن پولیس اہلکاروں کو یہ گالیاں پڑ رہی ہیں وہ ڈی ایس پی سے آئی جی اور اس سے اوپر تک کے تمام با اختیاروں کو زیرِ لب ننگی ننگی سنا رہے ہیں۔ گھروں میں بیٹھنے والے بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ بوڑھے اور بیمار آٹھ آٹھ گھنٹے بجلی نہ ہونے کے سبب ’میرے مولا یا انہیں اٹھا لے یا ہمیں‘ کی فریاد کر رہے ہیں تو بچے اپنا غصہ محلے میں ٹائر جلا کر اتار رہے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ گھریلو خواتین اپنے پسندیدہ چینلز کی نشریات بار بار معطل کرنے والوں کو ہاتھ پھیلا پھیلا کر بددعائیں دے رہی ہیں اور ان عورتوں کو یہ جاننے سے کوئی دلچسپی نہیں کہ یہ حرکت حکومت کی نہیں بلکہ پیمرا، کسی سیاسی جماعت یا گروہ، پنجاب پولیس یا کسی انٹیلیجنس ایجنسی کے دباؤ کا نتیجہ بھی ہوسکتی ہے اور حکومت بےچاری کا ان اداروں اور تنظیموں سے کوئی لینا دینا نہیں۔ دکاندار اس بات پر ناخوش ہے کہ اب اسے ہر شام آٹھ بجے دوکان بڑھانی پڑے گی تو کسان اس لیے سرکار سے فحش رشتے ناطے جوڑ رہا ہے کہ اب اسے دن میں سونا اور رات دس سے صبح چھ بجے تک ٹیوب ویل چلانا پڑے گا۔ صدرِ مملکت کی انتھک کوشش کے باوجود بھی ان لوگوں کو بھاشا ڈیم کی بھاشا سمجھ میں نہیں آ رہی۔ ابھی تک میں نے بلوچوں، وزیرستانیوں، غائب ہونے والوں کے عزیزوں، سیاسی کارکنوں اور وکلا کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔ مگر آفرین ہے وزیرِ اطلاعات محمد علی درانی جیسے عالی ظرف لوگوں پر جو دن رات سب کچھ خندہ پیشانی سے سہتے ہیں، اُف تک نہیں کرتے اور بڑے صاحب کو سب بہترین چل رہا ہے کی رپورٹ دے کر اگلی صبح پھر سےصفائی پر لگ جاتے ہیں۔ |
اسی بارے میں ’امریکہ نے تمام مواقع گنوا دیئے‘11 February, 2007 | قلم اور کالم کاربن گیس اسامہ سے خطرناک04 February, 2007 | قلم اور کالم پوپلوں کا کلب25 February, 2007 | قلم اور کالم گھر سے اٹھا ہے فتنہ: وسعت18 March, 2007 | قلم اور کالم مجھے کچھ ہوگیا ہے: وسعت اللہ خان01 April, 2007 | قلم اور کالم ’انصاف مل سکتا ہے تو بھگوان سے‘25 March, 2007 | قلم اور کالم کہیں نمبر تو نہیں بدل گیا؟08 April, 2007 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||