BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 August, 2007, 06:52 GMT 11:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’تقسیم کی حقیقت سے آشنا‘

کرسٹوفر بیومونٹ
کرسٹوفر پاک بھارت سرحدی کمیشن کے سربراہ ریڈکلف کے سیکرٹری تھے
شمالی انگلستان کی کاؤنٹی یارکشائر کے ایک پر سکون گاؤں میں رابرٹ بیومونٹ اپنے والد کے کاغذات کھنگال رہے تھے اور اس کوشش کے نتیجے میں جو بوسیدہ کاغذ سامنے آئے وہ ایک والد کی عام یاداشتیں نہیں بلکہ یہ ایک برٹش سول سرونٹ کی ایسی یاداشتیں ہیں جو اس سے قبل شائع نہیں ہوئیں۔

یہ کاغذات رابرٹ کے والد اور سنہ 1947 میں ایک لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی ہجرت پر منتج ہونے والے تقسیمِ ہند کے منصوبے میں اہم کردار ادا کرنے والے برطانوی افسر کرسٹوفر بیومونٹ کی یادداشتوں اور تحریر شدہ خیالات پر مشتمل ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق تقسیمِ ہند کے موقع پر ایک کروڑ پنتالیس لاکھ افراد نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ہجرت کی تھی۔

کرسٹوفر بیومونٹ کا انتقال 2002 میں ہوا تھا اور ان کے بیٹے رابرٹ انہیں یوں یاد کرتے ہیں’ وہ ایک انتہائی ایماندار انسان تھے اور انہوں نے ملک سے عدم وفاداری کا تاثر دیے بناء کئی مرتبہ تقسیم کے واقعات کے حوالے سے برطانیہ کے سرکاری نقطۂ نظر سے اختلاف کیا‘۔

1989 میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے ذاتی سیکرٹری سر جارج ابیل کے انتقال کے بعد کرسٹوفر بیومونٹ شاید یہ کہنے میں بھی حق بجانب تھے کہ وہ اب دنیا میں واحد زندہ آدمی ہیں جو’ تقسیم کی حقیقت سے آشنا ہے‘۔

تقسیمِ ہند کے موقع پر قریباً ایک کروڑ پنتالیس لاکھ افراد نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ہجرت کی

1947 میں کرسٹوفر بیومونٹ سینیئر برطانوی جج اور پاک بھارت سرحدی کمیشن کے سربراہ سر کائرل ریڈکلف کے ذاتی سیکرٹری تھے۔ ریڈکلف کی ذمہ داری تھی کہ وہ برصغیر کی وسیع و عریض سر زمین کو وہاں اس وقت بسنے والے چار سو ملین افراد سمیت مذہبی بنیادوں پر پاکستان اور بھارت میں بانٹ دیں۔

بیومونٹ کی یادداشتیں برصغیر میں برطانوی راج کے آخری دنوں میں برطانیہ کی جانب سے ادا کیے جانے والے کردار کی عکاس بھی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں’وائسرائے ماؤنٹ بیٹن اگرچہ مکمل طور پر ذمہ دار نہیں لیکن پھر بھی انہیں پنجاب میں ہونے والے اس قتلِ عام کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے جس میں پانچ سے دس لاکھ کے درمیان مرد،عورتیں اور بچے مارے گئے۔اقتدار کی منتقلی اور تقسیم کا عمل زیادہ ہی تیزی سے سر انجام دیا گیا‘۔

بیومونٹ کی تاریخی یاداشتوں سے ایک بات تو واضح ہے کہ ان کے نزدیک ماؤنٹ بیٹن نے نہ صرف تقسیم کے وقت قوانین کو توڑا مروڑا بلکہ سرحدوں کی تشکیل کے حوالے سے بھی بھارت کا ساتھ دیا۔

 سنہ 1947 کے آخر میں یہ وقت آیا کہ نہ تو مغربی پنجاب میں کوئی ہندو یا سکھ بچا اور نہ کوئی مسلمان مشرقی پنجاب میں اور حکومتِ برطانیہ اور ماؤنٹ بیٹن کو اس المیے کے لیے بڑی حد تک ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے‘۔

ان یاداشتوں میں بارہا کہا گیا ہے کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ریڈکلف پر دباؤ ڈالا کہ وہ سرحدوں کو بھارت کےحق میں تبدیل کریں۔ ایک موقع پر کرسٹوفر بیومونٹ لکھتے ہیں کہ انہیں’ماہرانہ انداز میں‘ ایک ایسے ظہرانے سے الگ کر دیا گیا جس میں ماؤنٹ بیٹن اور ریڈکلف نے ایک مسلم اکثریتی علاقے کو پاکستان کی بجائے بھارت میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔

بیومونٹ، جو کہ بعد ازاں برطانیہ میں ایک سرکٹ جج بنے، کی یادادشتیں تقسیم پنجاب کے حوالے سے بہت طنزیہ ہیں۔ وہ لکھتے ہیں’ تقسیمِ پنجاب ایک تباہی تھی۔ جغرافیہ، نہریں، ریلوے حتٰی کہ سڑکیں سب اس تقسیم کی مخالفت کی جانب اشارہ کرتے تھے‘۔

ان کا کہنا ہے’ مسئلہ یہ تھا کہ مسلمان، ہندو اور سکھ ایک آپس میں جڑی ہوئی آبادی تھے اور ان حالات میں لوگوں کو ہجرت پر مجبور کیے بناء سرحد بنانا ناممکنات میں سے تھا اور اس خانہ جنگی کی سی صورتحال میں ہزاروں افراد مارے گئے یا بےگھر ہوئے‘۔

بیومونٹ کے مطابق’ سنہ 1947 کے آخر میں یہ وقت آیا کہ نہ تو مغربی پنجاب میں کوئی ہندو یا سکھ بچا اور نہ کوئی مسلمان مشرقی پنجاب میں اور حکومتِ برطانیہ اور ماؤنٹ بیٹن کو اس المیے کے لیے بڑی حد تک ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے‘۔

 ماؤنٹ بیٹن
ریڈکلف اور ماؤنٹ بیٹن ’بھی زیادہ ساتھ نہ چل سکے‘

کرسٹوفر بیومونٹ کا یہ بھی دعوٰی ہے کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی جانب سے اس بات پر اصرار کہ سرحدیں بنانے کا عمل چھ ہفتے میں مکمل کیا جائے ایک’غیر ذمہ دارانہ‘ فعل تھا۔ جبکہ کشمیر پر بیومونٹ کا کہنا ہے کہ یہ کہیں بہتر ہوتا کہ اس وجۂ تنازعہ علاقے کو ایک علیحدہ ملک بنا دیا جاتا۔

بیومونٹ کے مطابق ریڈکلف اور ماؤنٹ بیٹن ’بھی زیادہ ساتھ نہ چل سکے‘ اور وہ ایک دوسرے سے’اس سے زیادہ مختلف نہیں ہو سکتے تھے‘۔

’ماؤنٹ بیٹن ایک خود شکل اور بہادر انسان تھا لیکن اس کا ادبی ذوق اچھا نہ تھا جبکہ ریڈ کلف ایک مہذب شخص تھا۔ ان دونوں کے تعلقات’چاک اینڈ چیز‘ کی مانند تھے اور لیڈی ماؤنٹ بیٹن کو اپنی تمام تر ہنرمندی استعمال کرتے ہوئے ان دونوں کی گفتگو کو برابری کی بنیاد پر رکھنا پڑتا تھا‘۔

نایاب پوسٹرزآزادی کی جدوجہد
برٹش لائبریری سے نایاب پوسٹرز
آزادی کے ساٹھ سال
سٹھیائے نہ تو پاکستان، بھارت فائدے میں رہینگے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد