BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 09 August, 2007, 13:22 GMT 18:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مسائل ہیں مگر مستقبل تابناک ہے‘

حنا ربانی کھر
’پاکستانی عوام میں ابھر کر سامنے آنے کی صلاحیت ہے‘
بی بی سی کے زیرِ انتظام منعقد ہونے والے ایک مباحثے کے شرکاء کی اکثریت نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ آزادی کے ساٹھ سال بعد تمام تر درپیش مسائل اور مشکلات کے باوجود پاکستان ایک شاندار مستقبل کا حامل ملک ہے۔

یہ مباحثہ پاکستان کی ساٹھویں سالگرہ کے حوالے سے اسلام آباد میں منعقد کیا گیا۔

مباحثے میں جہاں جمہوریت کی مکمل بحالی اور جمہوری اداروں کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا وہیں شرکائےگفتگو میں سے اکثر اس بات پر متفق تھے کہ ملکی سیاسی نظام اور حکومتی معاملات میں سے فوج کا کردارختم ہونا چاہیے اور ملک کے تمام اداروں بشمول فوج ، مقننہ اور عدلیہ کو آئین میں متعین کی گئی حدود میں رہتے ہوئے اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

مباحثے کے شرکاء میں وزیرِ مملکت برائے خزانہ عمر ایوب ، اکنامک افئیرز کی وزیرِ مملکت حنا ربانی کھر ، پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان ، انگریزی اخبار ڈان کے اسلام آباد کے مدیر ظفر عباس، بین الاقوامی ادارے ’ہیومن رائٹس واچ ’ کے جنوبی ایشیا کے محقق علی دایان حسن ، پاکستانی ٹیلی ویژن چینل ’ آج ’ کے ڈائریکٹر نیوز طلعت حسین ، جماعتِ اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد کے بیٹے آصف لقمان قاضی اور ایک مقامی کاروباری شخصیت عمر علی خان شامل تھے جبکہ بی بی سی کی مشیل حسین نے میزبانی کے فرائض سرانجام دیے ۔

بحث کے آغاز میں حکومتی وزراء نے مباحثے کے عنوان ’ پاکستان کے لیے جنگ : مستقبل کیا ہے ’ پر تنقید کرتے ہوۓ کہا کہ پاکستان کے لیےساٹھ سال پہلے لڑی جانے والی جنگ جیتی گئی تھی لہذا مباحثے کا عنوان کچھ مختلف ہونا چاہیے تھا۔

 چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی نے اس امید کو جنم دیا ہے کہ ملک میں ایک آزاد عدلیہ موجود ہونے کے بعد آئندہ انتخابات بھی شفاف اور آزادانہ انداز میں منعقد ہوں گے
عمران خان

اس سے پہلے حکومتی حلقوں کی ناراضگی کا اندازہ کرتے ہوئے مشیل حسین نے حاضرین کو مباحثے کے عنوان کے حوالے سے بتایا کہ اس کے پیچھے کوئی خاص مقصد نہیں تھا سوائے اس کہ ایک بامعنی اور سیر حاصل بحث کو آغاز ہی سے ممکن بنایا جا سکے۔

گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے ظفر عباس کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مستقبل شاندار ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاستدان عوام پر بھروسہ کریں۔ علی دایان حسن نے کہا کہ’گو کہ پاکستان کے شاندار مستقبل کے حامل ملک ہونے کے حوالے سے اُمید کی کرن پائی جاتی ہے لیکن یہ ممکن بنانے کے لیے ضروری ہے ملک میں حقیقی جمہوریت بحال کی جائے‘۔

وزیرِ مملکت حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستان اور اس کے عوام نےگزشتہ ساٹھ سالوں میں یہ ثابت کیا ہے کہ ان میں ابھر کر سامنے آنے کی صلاحیت ہے جس کی بنیاد پر یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ اس ملک کا مستقبل کافی امید افزا ہے۔

مباحثے کے دوران عمران خان نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ نے امید کو جنم دیا ہے کہ ملک میں ایک آزاد عدلیہ موجود ہونے کے بعد آئندہ انتخابات بھی شفاف اور آزادانہ انداز میں منعقد ہوں گے جبکہ طلعت حسین کہ کہنا تھا کہ پاکستان کے امید افزا مستقبل کے حامل ملک ہونے حوالے سے یہ امر نہایت اہم ہے کہ معاشرے میں بحث اور دوسروں کی رائے کا احترام کرنے کا جذبہ بدرجہ اتم موجود ہے حالانکہ اس ملک کے قیام سے آج تک بیشتر وقت فوج برسراقتدار رہی ہے ۔

وزیرِ مملکت برائے خزانہ عمر ایوب

ڈیڑھ گھنٹے سے زیادہ دیر تک جاری رہنے والے مباحثے میں حکومتی وزراء خصوصاٌ عمر ایوب خان کو اس وقت شرکائےگفتگو کی جانب سے سخت اور مہمانوں میں سے بعض کی جانب سے تضحیکی جملوں کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے وزیرِ اعظم شوکت عزیز کے خلاف کی گئی باتوں کا جواب دینا شروع کیا۔

وزیر موصوف کو اس وقت حاضرین کے قہقہوں کا سامنا کرنا پڑا جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ سنہ دو ہزار دو میں منعقدہ انتخابات میں ان کی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) کے جیتنے کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اس نے بہترین امیدوار میدان میں اتارے تھے ۔

ان کے اس دعوٰی کا جواب دیتے ہوئے طلعت حسین نے کہا کہ’اگر ایسا ہی تھا تو پھر حکمران جماعت نےگزشتہ فوجی حکومت دور کے وزیرِ خزانہ شوکت عزیز کو کیوں خصوصی طور پر ضمنی انتخاب میں منتخب کرا کے وزیرِاعظم بنایا‘۔

کارباری طبقے سے تعلق رکھنے والے عمر علی نے جب یہ کہا کہ آزادی کے ساٹھ سال گزرنے کے بعد ملک میں معاشرے کے مختلف طبقات میں معاشی عدم استحکام گہرا ہوا ہے تو جواب میں وفاقی وزیرِ مملکت عمر ایوب کا کہنا تھا کہ یہ کہنا آسان ہے کہ معاشی عدم استحکام پایا جاتا ہے لیکن لوگوں کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ہمارا ایک کمیونسٹ معاشرہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ساٹھ سال پہلے جب ملک وجود میں آیا تو یہاں منفی شرح نمو تھی جو اب نہ صرف مثبت ہو چکی ہے بلکہ اس میں قابلِ ذکر اضافہ بھی ہوا ہے۔ تاہم عمر ایوب کا ماننا تھا کہ تمام تر ترقی کے باوجود ملک کو مزید آگے جانا ہے اور مزید ترقی کی ضرورت ہے ۔

مہمانوں میں موجود خواتین کے حقوق کی علمبردار طاہرہ عبدللہ نے حکومتی وزرا سے پوچھا کہ ملک کب اس قابل ہو سکے گا کہ وہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی امداد کے بغیر اپنا نظام چلا سکے۔ اس سوال پر معاشی امور کی وزیرِ مملکت حنا ربانی نے کہا گزشتہ آٹھ سالوں میں بین الاقوامی امداد پر انحصار میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انیس سو نناوے میں ملک کے ذمے واجب الادا بیرونی قرضوں کا حجم جی ڈی پی کا کل ساٹھ فیصد تھا جو کہ اس وقت کم ہو کر چوبیس فیصد کی شرح پر ہے۔

اس حوالے سے بحث میں حصہ لیتے ہوئے علی دایان حسن کا کہنا تھا کہ حکومت کی ساکھ کا مسئلہ ہے کیونکہ غربت کی شرح میں کمی کے حکومتی اعدادوشمار مبینہ طور پر غلط ہیں۔

’اب کبھی کسی فوجی آمر کا کبھی ساتھ نہیں دوں گا‘

اس حوالے سے ظفر عباس کا کہنا تھا کہ اسلام آباد جیسے شہر میں بھی کئی لوگ ایسے ہیں جو کہ مالی ضروریات پورا کرنے کے لیے بیک وقت ایک سے زیادہ نوکریاں کرنے پر مجبور ہیں۔ اس پر وزیرِ مملکت عمر ایوب نے کہا کہ یہ رجحان دنیا کے باقی ملکوں سے ہٹ کر نہیں اور نیویارک سمیت دنیا کے بیشتر شہروں کے باسی ایک وقت میں ایک سے زیادہ نوکری کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

فوج سے مبینہ قربت اور فوجی آمر جنرل ضیاءالحق کی حکومت میں ان کے قریب ہونے کی بنا پر جماعتِ اسلامی کو جب ہدفِ تنقید بنایا گیا تو آصف لقمان قاضی نے جماعتِ اسلامی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ان کی جماعت سے غلطیاں سرزد ہوئی ہیں اور جنرل مشرف کو بھی ان کے وعدے کی بنیاد پر محفوظ راستہ مہیا کیا گیا لیکن بعد میں وہ اپنے وعدے سے منحرف ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ البتہ اب ان کی جماعت کی یہ پالیسی ہے کہ ملک میں حقیقی جمہوریت بحال ہونی چاہیے اور فوج کا سیاست سے کردار ہمیشہ کے لیے ختم ہونا چاہیے۔

اسی طرح جب عمران خان پر ماضی میں جنرل مشرف کی حمایت کرنے پر تنقید کی گئی تو انھوں نے بھی جواب میں کہا کہ جنرل مشرف کے دورِ حکومت کے شروع میں ان کو ایسا محسوس ہوا تھا جیسے مشرف کچھ ٹھیک کام کرنے جا رہے ہیں لیکن جلد ہی ان کو اپنی غلطی کا احساس ہوا جس کے بعد انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا ہے وہ کبھی کسی فوجی آمر کا کبھی ساتھ نہیں دیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد