BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 August, 2007, 09:47 GMT 14:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارتی مسلمانوں کی حالتِ زار

بھارت میں مسلمانوں کا آبادی میں تباسب تیرہ فیصد ہے
تاریخ دانوں کےمطابق انیس سو باون میں بھارت کے پہلے عام انتخابات کے موقع پر جواہر لال نہرو ملک کے مختلف بااختیار اداروں میں مسلمانوں کی نہ ہونے کے برابر نمائندگی کے بارے میں متفکر تھے۔

انیس سو سینتالیس میں پاکستان کے قیام پر دس لاکھ مسلمانوں کے ہجرت کر جانے کے باوجود مسلمانوں کی اکثریت نے بھارت ہی میں رہ گئی تھی۔

ملک کی سب سے بڑی مذہبی اقلیت کے بارے میں بھارت کے پہلے وزیر اعظم کے بجا طور پر متفکر تھے۔

تاریخ دان راچندرگوہا کے مطابق تقسیم کے وقت ملک کے دفاعی اداروں اور سیکریٹریٹ میں بمشکل ہی کوئی مسلمان بچا تھا۔

پہلے انتخابات کے ایک سال بعد انیس سو تریپن میں دانشوروں اور مفکریں کے ایک گروہ نے مسلمانوں کی علیحدہ سیاسی جماعت بنانے کے بارے میں غور شروع کیا اور مسلمانوں کی سیاسی اور سرکاری عہدوں میں کم نمائندگی کے بارے میں آواز اٹھائی۔

سرکاری نوکریوں میں مسلمانوں کا تناسب بہت کم ہے

نصف صدی گزر جانے کے بعد بھارت کی ساٹھویں سالگرہ کے موقعہ پر مسلمانوں کی حالتِ زار میں کوئی زیادہ تبدیلی نہیں آئی ہے۔

بھارت کی ایک ارب سے زیادہ کی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد تیرہ کروڑ اسی لاکھ یا کل آبادی کے تیرہ فیصد کے برابر ہے جو کہ اسلامی دنیا میں صرف پاکستان اور انڈونیشیا سے کم ہے۔

ملک کی ساٹھ سالہ تاریخ میں تین مسلمان صدر گزرے ہیں لیکن صدر کی حیثیت بہت رسمی سی ہوتی ہے۔ بالی وڈ اور کرکٹ بھارت کے لوگوں کے ایسے شوق ہیں جن کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہیں، اور ان دونوں شعبوں میں مسلمانوں کو اپنا پورا حصہ حاصل ہے۔

ممبئی کی فلمی صنعت میں شاہ رخ اور عامر خان چھائے ہوئے ہیں جبکہ کرکٹ میں بھارتی ٹیم کے حالیہ انگلینڈ کے دورے کے دوران تیز رفتار بالر ظہیر خان اپنی کارکردگی کے باعث مرکز نگاہ بنے ہوئے ہیں۔ بھارت کی کرکٹ ٹیم کی کپتانی چند سال قبل تک ہی اظہر الدین جیسے دلکش انداز رکھنے والے بلے باز کے ہاتھوں میں تھی۔

بھارت میں اقلیتیں
 اگر بھارت کو واقعی ایک سیکولر، مستحکم اور مضبوط ملک بنانا ہے تو اسے اپنی اقلیتوں سے مکمل انصاف سے کام لینا ہوگا۔
جواہر لال نہرو

اور مسلمانوں کی ترقی اور کامیابی کی کہانی ان ہی شعبوں تک محدود ہے۔

بھارت کے دیوہیکل سرکاری ڈھانچے سے منسلک اہلکاروں میں صرف پانچ فیصد مسلمان ہیں۔ بھارت میں ریلوے کے محکمے میں، جو کہ سب سے زیادہ بڑی تعداد میں لوگوں کو نوکریاں فراہم کرتا ہے، مسلمانوں کی تعداد چار عشاریہ پانچ فیصد ہے۔

اسی طرح دیگر سرکاری شعبوں یا نوکر شاہی میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے۔ بھارت کی بااختیار نوکر شاہی یا سول سروس میں مسلمانوں کی تعداد تین فیصد، وزارتِ خارجہ میں ایک اعشاریہ آٹھ فیصد اور پولیس کے محکمے میں چار فیصد ہے۔ ملک کی عدلیہ میں کام کرنے والوں میں سات اعشاریہ آٹھ فیصد لوگ مسلمان ہیں۔

بھارت کے مسلمان زیادہ تر ناخواندہ اور غریب ہیں۔

ملک کی مسلم اقلیت میں خواندگی کی شرح ساٹھ فیصد ہے جو ملک کی شرح خواندگی سے پانچ فیصد کم ہے۔ مسلم خواتین میں شرح خواندگی اور بھی زیادہ کم ہے اور صرف پچاس فیصد مسلم خواتین پڑھی لکھی ہیں۔

پانچ سے چودہ سال کی عمر کے مسلمانوں بچوں کی کل تعداد کے تقریباً ایک چوتھائی کو کبھی سکول جانا نصیب نہیں ہوتا یا پھر وہ سکولوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔

جنوبی ریاستوں میں مسلمان
 اندھراپردیش میں مسلمان میں شرح خواندگی اڑسٹھ فیصد ہے جو کہ ریاست اور ملک کی شرح خواندگی سے زیادہ ہے۔ کیرالا اور تامل ناوڈو میں نوے فیصد مسلمان بچوں کے نام سکولوں میں درج ہیں۔

مسلمانوں میں غربت کا یہ عالم ہے کہ اکتیس فیصد مسلمان خطِ غربت سے نیچے ہیں، جو کہ ملک کے غریب ترین طبقوں جن میں اچھوت یا قبائلی شامل ہیں ذرا بہتر ہے۔

ایک ماہر عمرانیات کے مطابق مسلمانوں کے ان گنت معاشی اور معاشرتی مسائل اُن کی معاشرے میں شناخت، تحفظ اور عدم مساوات کی وجہ سے مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔

بھارت کے مسلمانوں کے بارے میں تیار کی جانے والی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق کبھی تو مسلمانوں کی حب الوطنی پر شک کیا جاتا ہے اور کبھی ان کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ یہ بات بھی بہت تکلیف دہ ہے کہ بھارت کی اکثریتی ہندو آبادی، انتہا پسندوں ہندؤں کے ان نعروں میں آ جاتی ہے کہ ’مسلمانوں کو خوش‘ کرنے کی پالیسی سے ان کے حقوق پامال ہو رہے ہیں۔

غیر سرکاری شعبے میں صورت حال قدر بہتر ہے

بھارت میں مسلمانوں کی پسماندگی کے کیا عوامل ہیں؟ سب سے پہلے بھارت کی ریاست کی صریحاً نااہلی اور ناانصافی ہے جس سے وجہ سے مسلمانوں کو تعلیم، صحت اور سرکاری نوکریوں میں ان کا جائز حق حاصل نہیں ہو سکا۔

حکومت کے اس رویے کے باعث غریب اور پسماندہ طبقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے اور غریب اور پسماندہ طبقوں میں مسلمانوں کی تعداد نسباتاً زیادہ ہے۔

اس ابتر صورت حال میں مسلمانوں کو حالیہ برسوں میں ہندو انتہا پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے مرکز اور کئی ریاستوں میں اقتدار میں آنے کے بعد سیاسی تعصب کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

مزید براں مسلمانوں کے متوسط طبقے میں قیادت کے فقدان کی وجہ سے بھی ان کی فکری اورمعاشی ترقی کا عمل شروع نہ ہو سکا۔

اس صورت حال میں بعض موقع پرست عناصر نےفائدہ اٹھاتے ہوئے مسلمانوں پر اپنے آپ کو مسلط کر دیا۔

اصل میں مسلمانوں میں قیادت کے فقدان کی ایک بڑی وجہ تقسیم کے وقت پڑھے لکھے اور ہنر مند مسلمانوں جن میں سرکاری افسر، تعلیم کے شعبے سے منسلک افراد اور ڈاکٹر شامل تھے ہجرت کر گئے۔

اسی بنا پر مسلمانوں کو سیاست میں بھی صحیح نمائندگی حاصل نہیں ہوسکی۔ بھارت کی موجودہ پارلیمان کے ایوان زیریں یا لوک سبھا میں پانچ سو چونتیس کل اراکین میں سے صرف چھتیس مسلمان ہیں۔

فلمی صنعت میں مسلمان ہمیشہ ہی صف اول میں رہے ہیں

رامچندرگوہا کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت میں پائی جانے والی کشیدگی اور تلخی اور پاکستان میں اقلیتیوں سے کیئے جانے والے سلوک کا اثر بھی بھارت کے مسلمانوں پر پڑا اور وہ پسماندگی کا شکار رہے۔

ان سب باتوں کے علاوہ مسلمانوں کی حالتِ زار بڑی حد تک بھارت میں اندازِ حکمرانی، معاشرے کی ناہموایوں اور شمالی بھارت میں نوکریوں میں برابری کے موقع حاصل نہ ہونے کے باعث ہے۔

اتر پردیش، جو کہ ملک کے بڑے آبادی والے صوبوں میں شامل ہے مسلمانوں کی تعداد کل آبادی کا اکتیس فیصد یا ایک تہائی ہے۔ جبکہ بہار، شمالی ریاستوں میں تیسری ایسی ریاست ہے جہاں مسلمانوں کی آباری ایک کروڑ سے زیادہ ہے۔

جنوبی ہندوستان میں حالت کافی مختلف ہے۔ ایک اور تاریخ دان مہیش رنگاراجن کا کہنا ہے کہ سماجی اور ثقافتی تبدیلیوں کےباعث یہاں تعلیم اور نجی کاروبار کے زیادہ مواقعے ہیں جن سے مسلمانوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔

آندھراپردیش میں مسلمان میں شرح خواندگی اڑسٹھ فیصد ہے جو کہ ریاست اور ملک کی شرح خواندگی سے زیادہ ہے۔ کیرالا اور تامل ناوڈو میں نوے فیصد مسلمان بچوں کے نام سکولوں میں درج ہیں۔

مہیش رانگاراجن کا کہنا ہے کہ غربت اور مفاد عامہ کی پالیسوں کے فقدان کی وجہ سے مسلمان سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

جواہر لال نہرو نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ اگر بھارت کو واقعی ایک سیکولر، مستحکم اور مضبوط ملک بنانا ہے تو اسے اپنی اقلیتوں سے مکمل انصاف سے کام لینا ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد