’ کوئی خوشی سے ایسے فیصلے نہیں کرتا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انتیس سالہ نغمہ کی شادی ایک سال قبل ممبئي میں ایک ریستوران مالک سے ہوئی تھی مگر آٹھ ماہ بعد انہوں نے اپنے شوہر سے اس وجہ سے طلاق لے لی کہ ان کے شوہر کو ان کا لوگوں کے درمیان اٹھنا، بیٹھنا پسند نہیں ہے۔ کچھ ایسا ہی حال اسماء کا ہے جنہوں نے اپنے شوہر سے اس بات پر علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا کہ وہ الگ رہنا چاہتی تھیں جبکہ ان کے شوہر اس بات کے لیے تیار نہيں تھے کہ وہ اپنے ماں باپ سے الگ ہوں۔ فاطمہ کی کہانی بھی اس سے مختلف نہیں۔ انہوں نےگھر سے باہر نکل کر کام کرنے کو زیادہ ترجیح دی اور اپنے شوہر سے الگ ہوگئیں۔ ان کے شوہر کو ان کا باہر کام کرنا پسند نہيں تھا۔ اس طرح کے واقعات ان دنوں مسلم معاشرے میں اکثر سامنے آتے ہیں۔ کئی لوگ اسے مسلم معاشرے میں ہونے والی تبدیلیوں کا عکاس مانتے ہیں۔ مسلم گھروں میں پڑھی لکھی تعلیم یافتہ لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد اب اپنے فیصلے خود کرنا چاہتی ہے۔ وہ شادی بیاہ جیسے اہم فیصلوں میں شریک ہونا چاہتی ہیں۔ تو کیا ذاتی آزادی اور اپنے حقوق پر زور لڑکیوں کے اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کرنے کے بڑھتے رجحان کا سبب بن رہا ہے ؟ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ معاشرے میں پسماندگی کے سبب اس طرح کے حالات پیدا ہو رہے ہيں تو بعض کا خیال ہے کہ مذہبی تعلیم کے فقدان کی وجہ سے یہ سب ہو رہا ہے۔ تاہم سماجی ماہرین ان دلیلوں سے متفق نہيں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ حالات لڑکے اور لڑکیوں کے درمیان تعلیمی فرق کا نتیجہ ہیں۔ ماہرین کے نزدیک جب کسي تعلیم یافتہ لڑکی کی شادی ایک ایسے لڑکے سے ہو جاتی ہے جو تعلیم کے اعتبار سے اس کے برابر نہیں تو اس طرح کی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ دانشور آفاق احمد کے مطابق مسلمانوں میں بڑی تعداد ایسے لڑکوں کی ہے جو سکول کے دنوں میں ہی پڑھائی چھوڑ دیتے ہیں۔ عموماً وہ کوئی چھوٹا موٹا کاروبار ہی کر پاتے ہیں جبکہ مسلمان لڑکیاں تعلیم کے میدان میں کافی بہتر ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ’اس طرح کی لڑکیوں کی جب ناخواندہ یا کم تعلیم یافتہ لڑکوں سے شادی ہوتی ہے تو بہت دقت ہوتی ہے۔ اور وہیں سے معاملات بگڑنا شروع ہوتے ہيں‘۔ علماء کی اس سلسلے میں مختلف رائے ہے اور کوئی اسے فلم اور ٹی وی سے جوڑ کر دیکھتا ہے تو کوئی اس کی وجہ اور ہی گردانتا ہے۔ بھوپال میں مفتی شیث کہتے ہيں کہ’لڑکیاں ٹی وی پر ایسے پروگرام دیکھتی ہیں جن میں ہر طرح کی برائی موجود ہوتی ہے اور لڑکیاں انہیں ہی اپنے لیے بہتر مانتی ہيں اور اس طرح کا عمل وہ اپنی زندگی میں بھی اختیار کرتی ہيں‘۔ نائب قاضی امیر اللہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ طلاق کے معاملات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ’آج کل لڑکیوں کی گھر یلو تربیت بھی کچھ اس طرح کی ہوتی ہے کہ وہ اس طرح کے فیصلے کرتی ہیں‘۔ تاہم کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو یہ مانتے ہيں کہ اس طرح کے معاملات میں صرف لڑکیوں کو ہی قصوروار نہيں ٹھہرایا جا سکتا۔ مصنفہ شفیقہ فرحت کے مطابق مسلمان لڑکیاں چاہے اعلٰی طبقے کی ہوں یا نچلے طبقے کی ، ان کی حالت ایک جیسی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ’بہت بار دیکھا گيا ہے کہ لڑکے، لڑکیوں کی زندگی کو اس قدر عذاب بنا دیتے ہيں کہ الگ ہونے کے علاوہ کوئی چارہ نہيں رہ جاتا‘۔ زیادہ تر لڑکیاں بھی اس بات سے متفق نہيں کہ ان کے فیصلے کسی فلم اور ٹی وی سیریل سے متاثر ہوتے ہيں۔ بھوپال کے ایم ایل بی کالج کی طالبہ نازیہ کا کہنا ہے کہ’ کوئی خوشی سے ایسے فیصلے نہیں کرتا اور جب ظلم اپنی حدیں پار کر جاتا ہے تو لڑکیوں کو علیحدگی کے فیصلے کرنے ہی پڑتے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ’مسلمانوں میں رفتہ رفتہ تعلیم کی شرح بڑھ رہی ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ بیداری بھی بڑھ رہی ہے اور آج لڑکیاں اسی کے ساتھ زندگی بسر کرنا چاہتی ہيں جو انہيں محبت کے ساتھ ساتھ آزادی بھی دے‘۔ بشرٰی اقبال لڑکیوں کے باہر کام کرنے کو غلط نہيں مانتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’لڑکیاں اپنے دائرے میں رہ کر باہر جا کر کوئي کام کرتی ہیں تو اس میں برائي کیا ہے۔ لڑکیوں نے جو تعلیم حاصل کی ہے اس کا استعمال کہیں نہ کہیں ہونا چاہیے‘۔ جبکہ انگریزی کی تعلیم دینے والی شاہین کا کہنا ہے کہ’جب مردوں کے ذہن میں لڑکیوں کے کام کرنے سے خطرہ محسوس ہوتا ہے تو انہی حالات میں معاملات بگڑتے ہیں اورگھروں میں دقت پیداہو تی ہے‘۔ | اسی بارے میں ’ایڈلٹری‘قانون میں تبدیلی کی سفارش 06 June, 2007 | انڈیا نشہ میں طلاق کے بعد مصیبت02 July, 2007 | انڈیا کشمیر: ’مسلم پرسنل لا‘ بل منظور16 February, 2007 | انڈیا انڈیا ’ماڈل شیعہ نکاح نامہ‘ جاری 26 November, 2006 | انڈیا طلاق کی'ڈکری'کے لیے شوہرکوکہاں ڈھونڈوں13 June, 2007 | انڈیا انڈیا: طلاقوں پرقابو پانے کیلیے کمیٹیاں 11 June, 2006 | انڈیا پردہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں 21 March, 2006 | انڈیا شوہر سے طلاق، سسر سے شادی15 June, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||