انڈیا: طلاقوں پرقابو پانے کیلیے کمیٹیاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کی ریاست راجستھان کی مسلمان بہشتی برادری نے طلاق کے واقعات میں مسلسل اضافے پر قابو پانے کے لیئے بیالیس بستیوں میں کمیٹیاں تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ کمیٹیاں صلاح اور مشورے کے ذریعے شادی شدہ جوڑوں کے مسائل کا حل تلاش کرنے میں ان کی مدد دیں گی۔ اس کمیٹی کے فیصلےکی خلاف ورزی کرنے والے کو جرمانہ ادا کرنا ہوگا اور اس کا سماجی بائیکاٹ بھی کیا جائے گا۔ ریاست کےدارالحکومت جے پور میں بہشتی برادری کے پانچ اہم نمائندوں نے صلاح و مشورے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے۔ اس اجلاس میں بہشتی برادری کے تقریبًا نو سو افراد شریک ہوئے تھے۔ برادری کے لوگوں کے مطابق اس فیصلے سے وہ نوجوان بھی طلاق دینے سے باز آجائیں گے جو صرف دس روپئے کے سٹامپ پیپر پر قاضی سے دستخط لےکر طلاق دے دیتے ہیں۔ برادری کے نمائندوں کہ کہنا ہے کہ حال ہی میں ان کی برادری میں طلاق کے ایک درجن کیس سامنے آئے ہیں۔ برادری کے ایک فورم جمیت آل عباس کے سابق سیکریٹری عبدالمجید کا کہنا تھا کہ اسلام میں بتائی گئی باتوں پر عمل درآمد کے ذریعے ہی طلاق کے مسئلے پر قابو پایا جائے گا۔ برادری کے اجلاس کے دوران ایک ایسی لڑکی کا ذکر سامنے آیا جسے آنکھیں کمزور ہونے کے سبب چشمہ پہننے کی وجہ سے طلاق ہوچکی ہے۔
لڑکی کے سسرال والوں کا کہنا تھا کہ شادی سے پہلے جب انہوں نے لڑکی کو دیکھا تھا تو وہ بالکل صحیح تھی۔ برادری کے سیکریٹری اکرام الدین کےمطابق چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے جب طلاق کے معاملے سامنے آتے ہیں تو وہ معاشرے کے لئیے ایک پریشانی بن جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’غلطیاں دونوں جانب سے ہو سکتی ہیں لیکن انہیں صلاح و مشورے کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ پولیس اور عدالت کی کارروائی میں کافی پیسہ اور وقت برباد ہوتا ہے‘۔ مسلم ویلفیر ایسوسی ایشن سے تعلق رکھنے والی نشاط حسین نے برادری کے فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اسلام میں بتائے گئے طریقہ کار پرصحیح طرح سے عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ جے پور ميں مسلمان بہشتی برادری کی تعداد تیس ہزار سے ذيادہ ہے۔ | اسی بارے میں نشہ، طلاق اور احتجاج04 June, 2004 | انڈیا طلاق: ’موبائل فون سے ڈر لگتا ہے‘04 August, 2004 | انڈیا ہندو لڑکی طلاق لینے میں کامیاب22 June, 2005 | انڈیا کشمیری پنڈتوں میں طلاق کا رجحان23 November, 2005 | انڈیا دلّی دھمال، سپروائزر صدر اور نیند میں طلاق02 April, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||