BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 11 June, 2006, 14:53 GMT 19:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈیا: طلاقوں پرقابو پانے کیلیے کمیٹیاں

شادی
کمیٹیاں شادی شدہ جوڑوں کو مسائل کے حل کے لیئے صلاح مشورے دیں گی
انڈیا کی ریاست راجستھان کی مسلمان بہشتی برادری نے طلاق کے واقعات میں مسلسل اضافے پر قابو پانے کے لیئے بیالیس بستیوں میں کمیٹیاں تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ کمیٹیاں صلاح اور مشورے کے ذریعے شادی شدہ جوڑوں کے مسائل کا حل تلاش کرنے میں ان کی مدد دیں گی۔ اس کمیٹی کے فیصلےکی خلاف ورزی کرنے والے کو جرمانہ ادا کرنا ہوگا اور اس کا سماجی بائیکاٹ بھی کیا جائے گا۔

ریاست کےدارالحکومت جے پور میں بہشتی برادری کے پانچ اہم نمائندوں نے صلاح و مشورے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے۔ اس اجلاس میں بہشتی برادری کے تقریبًا نو سو افراد شریک ہوئے تھے۔

برادری کے لوگوں کے مطابق اس فیصلے سے وہ نوجوان بھی طلاق دینے سے باز آجائیں گے جو صرف دس روپئے کے سٹامپ پیپر پر قاضی سے دستخط لےکر طلاق دے دیتے ہیں۔

برادری کے نمائندوں کہ کہنا ہے کہ حال ہی میں ان کی برادری میں طلاق کے ایک درجن کیس سامنے آئے ہیں۔

برادری کے ایک فورم جمیت آل عباس کے سابق سیکریٹری عبدالمجید کا کہنا تھا کہ اسلام میں بتائی گئی باتوں پر عمل درآمد کے ذریعے ہی طلاق کے مسئلے پر قابو پایا جائے گا۔

برادری کے اجلاس کے دوران ایک ایسی لڑکی کا ذکر سامنے آیا جسے آنکھیں کمزور ہونے کے سبب چشمہ پہننے کی وجہ سے طلاق ہوچکی ہے۔

اکثر چھوٹے چھوٹے اختلافات پر طلاقیں ہوجاتی ہیں

لڑکی کے سسرال والوں کا کہنا تھا کہ شادی سے پہلے جب انہوں نے لڑکی کو دیکھا تھا تو وہ بالکل صحیح تھی۔

برادری کے سیکریٹری اکرام الدین کےمطابق چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے جب طلاق کے معاملے سامنے آتے ہیں تو وہ معاشرے کے لئیے ایک پریشانی بن جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’غلطیاں دونوں جانب سے ہو سکتی ہیں لیکن انہیں صلاح و مشورے کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ پولیس اور عدالت کی کارروائی میں کافی پیسہ اور وقت برباد ہوتا ہے‘۔

مسلم ویلفیر ایسوسی ایشن سے تعلق رکھنے والی نشاط حسین نے برادری کے فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اسلام میں بتائے گئے طریقہ کار پرصحیح طرح سے عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ جے پور ميں مسلمان بہشتی برادری کی تعداد تیس ہزار سے ذيادہ ہے۔

اسی بارے میں
نشہ، طلاق اور احتجاج
04 June, 2004 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد