نشہ، طلاق اور احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی ریاست اڑیسہ میں ہزاروں مسلمانوں نے نیشنل وومن کمیشن کے اس حکمنامے کے خلاف احتجاج کیا جس کے تحت مسلمان شخص کی طرف سے نشہ میں دی گئی طلاق کو غیر موثر قرار دیا گیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ حکم مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت کرنے کے برابر ہے۔ مظاہرین نے کالے بیجز لگا کر اڑیسہ کے شہر بھدراک کی گلیوں میں خاموش مارچ کیا۔ گزشتہ برس جولائی میں چالیس سالہ شیر علی کی اپنی بیوی سے بحث ہوگئی اور اس نے شراب کے نشے میں اسے تین مرتبہ طلاق دے دی۔ مذہبی علماء کے مطابق اسلامی قانون کے مطابق اس کی دی گئی طلاق موثر ہوگئی تاہم دونوں میاں بیوی نے یہ واقعہ بھلا کر دوبارہ سے گزر بسر شروع کردی۔ ایک مقامی مذہبی گروہ کو جب اس کا علم ہوا تو اس نے شیر علی کو اپنی بیوی سے علیحدہ ہونے کا کہا۔ اس نے انکار کیا تو اسے مارا پیٹا بھی گیا۔ علاقے کے ایک سوشل گروپ نے اس معاملے پر وومن کمیشن کی مداخلت چاہی۔ جمعرات کے مظاہرے میں شامل افراد کا کہنا تھا کہ اس جوڑے کو اسلامی احکام پر عمل کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ دوبارہ ساتط رہنا بھی چاہتے ہیں تو انہیں اسلامی طریقہ اپنانا چاہیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||