BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 August, 2004, 11:13 GMT 16:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طلاق: ’موبائل فون سے ڈر لگتا ہے‘

جہاں آرا: ’میری زندگی تباہ ہوگئی۔‘
جہاں آرا: ’میری زندگی تباہ ہوگئی۔‘
ایک عشرے سے زائد ہوا بھارت میں مسلم خواتین تین طلاق کے رواج کے خلاف لڑتی رہی ہیں۔ یہ ایک ایسا رواج ہے جس کے تحت ایک مسلم خاوند صرف منٹوں میں اپنی بیوی کو طلاق دے سکتا ہے۔

یہ مسئلہ منظر عام پر اس لئے آیا ہے کہ آج کل مسلمان اپنی بیویوں کو خط، فون، موبائل فون وغیرہ کے ذریعے طلاق دے رہے ہیں۔ تین طلاق کی رسم پر بنگلہ دیش، پاکستان، ملیشیا اور انڈونیشیا سمیت کئی اسلامی ملکوں میں پابندی عائد ہے۔

لیکن بھارت میں یہ اب بھی رائج ہے۔

جہاں آراء پرانی دلی میں رہتی ہے۔ اس کے والدین نے اس کی شادی پندرہ سال کی عمر میں ہی کردی تھی۔ لیکن اب دو سال بعد وہ پھر سے اپنے والدین کے ساتھ رہ رہی ہے کیونکہ اس کے شوہر نے تین بار طلاق کا لفظ اس کے سامنے کہی اور چلا گیا۔

جہاں آراء کہتی ہے: ’میری زندگی تباہ ہوگئی۔ میں اکیلے کیا کرسکتی ہوں؟ میں نے اس کے ساتھ پوری زندگی گزارنے کی امید کررکھی تھی اور اس نے میرے ساتھ کیا کردیا۔‘

علماء کا کہنا ہے کہ قرآن نے واضح طور پر طلاق کا طریقہ بتایا ہے۔ اس طریقے کے تحت تین ماہ کی مدت کے دوران طلاق دینے سے دونوں کے درمیان مصحالت کے امکانات باقی رہتے ہیں۔

ریحانہ: ’موبائل فون سے ڈر لگتا ہے‘
ریحانہ: ’موبائل فون سے ڈر لگتا ہے‘

مسئلہ سنگین اس لئے بھی ہے کہ آج کل موبائل فون کے ذریعے بھی طلاق دیا جاسکتا ہے۔ ریحانہ آج کل اپنے موبائل فون کی گھنٹی بجتے ہی گھبرا جاتی ہے۔ وہ خوفزدہ رہتی ہے۔’شاید وہ مجھے فون پر طلاق دیدےگا۔‘

ریحانہ کی شادی کو بیس برس ہوئے، چار بڑے بچے ہیں۔ لیکن طلاق کی تلوار لٹکتی رہتی ہے۔

مسلم خواتین کے حقوق کے لئے لڑنے والے اس طرح کے رسم و رواج کے خلاف ہیں۔ سعیدہ حمید کہتی ہیں: ’قرآن میں کچھ بھی ایسا نہیں ہے جس سے تین طلاق کے رسم کا جواز ملتا ہو۔‘

ماضی میں تین طلاق کے رسم کے نتائج کے بارے میں کافی کچھ لکھا گیا ہے۔ کافی تنقید کے بعد حال ہی میں مسلم پرسنل لا بورڈ نے اس مسئلے پر بات چیت کی۔

لیکن بورڈ کے ترجمان سید قاسم رسول الیاس کہتے ہیں: ’بورڈ کے پاس اس رسم پر پابندی عائد کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ لیکن بورڈ کے اراکین سمجھتے ہیں کہ یہ صحیح نہیں ہے اور اسے روکنے کی ضرورت ہے۔‘

مسلم پرسنل لا بورڈ کی اسی کوشش کے تحت علماء کرام اور مساجد کے اماموں سے مدد لی جارہی ہے۔ ان دنوں دلی میں ایک مسجد کے امام مولانا جلال الدین عمری جمعہ کی نماز کے دوران اپنے خطبے میں تین طلاق کو روکنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔

لگتا ہے کہ ان کی کوشش کا کچھ اچھا نتیجہ بھی نکل رہا ہے۔ ماجد اختر صدیقی ایک میکانیکل انجینیئر ہے۔ اس کا کہنا ہے: ’میں نے دیکھا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان مسائل کھڑے ہوتے رہتے ہیں، انہیں سلجھانے کی ضرورت ہے، نہ کہ مشکل بنانے کی۔‘

لیکن سعیدہ حمید کہتی ہیں کہ صرف سماجی مہم سے کام نہیں چلے گا اور قانونی طور پر بھی کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ ’پہلی چیز جو کرنے کی ہے وہ ہے تین طلاق پر مکمل پابندی۔ یہ بالکل نہیں ہونا چاہئے۔‘

ریحانہ اور جہاں آراء کے لئے مسلم پرسنل لا بورڈ کی سماجی مہم کافی نہیں ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد