BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 13 June, 2007, 23:05 GMT 04:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طلاق کی'ڈکری'کے لیے شوہرکوکہاں ڈھونڈوں

مسلم خواتین فائل فوٹو
راجستھان ميں تقریبا پچاس ایسی خواتین موجود ہيں جو حکومت سے اس قسم کی درخواست کر رہی ہیں۔
انڈیا کی ریاست راجستھان کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے کہا ہے کہ مخصوص عہدوں پر عرضی دینے والی خواتین اگر طلاق یافتہ ہیں تو انہیں عدالت سے باقاعدہ طلاق نامہ حاصل کرنا ہوگا۔

حکومت کے اس اقدم سے طلاق یافتہ مسلمان خواتین کے لیے مشکلات پیدا ہو گئی ہیں کیونکہ مسلمان برادری میں بیشتر معاملے عدالت تک پہنچ ہی نہیں پاتے ہیں۔

ریاست کی کئی مسلمان تنظیموں نے حکومت پر تفریق برتنے کا الزام عائد کیا ہے۔

لیکن راجستھان کےمحکمہ تعلیم کے وزیر واسودیو دیونانی کہتے ہیں کہ سرکاری ضوابط میں طلاق کی 'ڈکری' یعنی باضابطہ طور پر طلاق نامہ پیش کرنے کی ضرورت بتائی گئی ہے۔ اس فیصلے کے خلاف کچھ لوگ عدالت بھی گئے ہیں۔ اب عدالت جو بھی فیصلہ سنائے گی سرکار اس پر عمل کرے گی۔

جے پور کی رہنے والی ایک طلاق یافتہ خاتون نسیم بانو کی شادی سات برس قبل ہوئی تھی۔ لیکن جب ان کے شوہر نے انہیں طلاق دی تو ان پر مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔

سوائی مادھو پور کی ستارا بانو کا بھی یہی حال ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’تمام مشکلات کے درمیان تعلیم حاصل کر کے اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی کوشش کی تو سرکار نے دھوکہ دے دیا۔ ایک عورت جب تعلیم حاصل کرتی ہے تو وہ مزید 50 لوگوں کو تعلیم دے سکتی ہے۔ سرکار مسلمانوں کے ساتھ نا انصافی کر رہی ہے‘۔

 ’اپنی بکھری ہوئی زندگی سنوارنے کے لیے اب اس شوہر کو کہاں جاکر تلاش کروں جو عدالت میں جا کر کہے کہ میں نے نسیم کو طلاق دے دی ہے
نسیم بانو

نسیم بانو نے ہار نہیں مانی اور تعلیم حاصل کر کے نوکری کے لیے عرضی دی۔ لیکن حکومت نے طلاق کے روایتی طریقہ کو منظوری دینے سے انکار کر دیا۔

نسیم کہتی ہیں کہ’ میں عدالتی ڈکری کہاں سے لاؤں، طلاق تو ذلّت کا وہ تحفہ ہے جو ہمارے گلے میں لٹکا دیا گیا ہے‘۔

وہ کہتی ہيں کہ ’اپنی بکھری ہوئی زندگی سنوارنے کے لیے میں نے ایم اے ، ایم فل اور بی ایڈ کی ڈگری حاصل کی ۔ اب اس شوہر کو کہاں جاکر تلاش کروں جو عدالت میں جا کر کہے کہ میں نے نسیم کو طلاق دے دی ہے‘۔

نسیم بانوں اکیلی نہيں ہیں۔ راجستھان ميں تقریبا پچاس ایسی خواتین موجود ہيں جو حکومت سے اس قسم کی درخواست کر رہی ہیں۔

قانون کے ماہر پریم کرشن شرما کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے قوانین کے مطابق انہیں عدالت سے ڈکری کے لیے مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت پہلے بھی اس قسم کے فیصلے سنا چکی ہے۔

’میں نے ان طلاق شدہ خواتین کے کاغذات دیکھے ہیں ۔ ان کے پاس قاضی کے کاغذات ہیں۔ انہیں عدالتی ڈکری کے لیے مجبور کرنا صحیح نہیں ہے‘۔

سماجی کارکن نشاط حسین کہتی ہیں کہ ’ان لڑکیوں نے سماج اور خاندان کی غیر معمولی صورت حال کے درمیان تعلیم حاصل کی ہے تاکہ وہ اپنے آپ کو بہتر ثابت کر سکیں۔ تو کیا یہی ان کی غلطی ہے‘۔

اسی بارے میں
مسلم خواتین کی سست رفتار
08 February, 2007 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد