BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 February, 2007, 15:43 GMT 20:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسلم خواتین کی سست رفتار

خواتین کے خیال میں معاشرے پر مردوں کا غلبہ برقرار ہے
ہندوستان جب آزاد ہوا تو اس نے اپنے لیے جمہوری نظام کا انتخاب کیا، ایک ایسا نظام جو یہ دعوی کرتا ہے کہ سبھی کو برابری کا حق حاصل ہے۔

ہندوستان ایک ایسا سماج ہے جہاں کسی بھی انسان کے لیے آزادی ایک خواب نہیں ہے۔ لیکن آزادی کے ساٹھ برس گزرنے کے بعد بھی معاشرے میں مردوں کا غلبہ ہے اور بات جب مسلمانوں کی ہو تو یہ صورتحال زیادہ خراب نظر آتی ہے۔

ملک کی کل آبادی میں تیرہ فیصد مسلمان ہیں۔ حکومت کی جانب سے تشکیل کردہ سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق مسلمان ہر شعبے میں پچھڑے ہوئے ہیں اور مسلم عورتوں کی حالت سماج میں بد سے بدتر ہے۔

ہندوستان کے معاشرے میں عورتیں کتنی آزاد ہیں؟ روز مرہ کی زندگی میں انہیں کتنی آزادی حاصل ہے؟ اس سوال کے جواب میں جب میں نے بعض مسلم عورتوں سے بات چیت کی تو لگا کہ ہندوستان کا سماج بھلے ہی عورتوں اور مردوں کی برابری کے بات کر رہا ہو، لیکن اصیلت کچھ اور ہی ہے۔ آج بھی بیشتر مسلمان خواتین کو روزمرہ کی زندگی میں وہ آزادی حاصل نہیں ہے جس کی بقول ان کے وہ حق دار ہیں۔

جن مسلم لڑکیوں سے میں نے بات چیت کی ان کا تعلق پڑھے لکھے مڈل کلاس گھرانوں سے تھا۔ انہیں اسکول اور کالج بھیجا گیا اور ان کے ارمان ہیں کہ وہ پڑھ لکھ کر کچھ بن جائيں اور ایک ’آزاد‘ زندگی گزاریں۔

حنا لیاقت کے خیال میں مسلم لڑکیوں کی تعلیم میں بعض مذہبی دلائل رکاوٹ ثابت ہورہے ہیں
ان لڑکیوں کا ماننا ہے کہ عورتوں کو وہی آزادی ملنی چاہیے جو سماج میں مردوں کوحاصل ہے۔ انہیں اپنے فیصلے خود کرنے اور اپنی زندگی اپنے شرط پر جینے کی آزادی ملنی چاہیے۔ ان کا ماننا ہے ان کے آزاد ملک میں عورتوں کے ساتھ ابھی بھی دوہرا رویہ اپنایا جاتا ہے۔

صائمہ خان کا کہنا ہے: ’جب میں اپنے آپ سے یہ پوچھتی ہوں کہ کیا مجھے میرے حصے کی آزادی ملی ہے تو لگتا ہے کہ جیسے لڑکی ہونے کے ناطے مجھے ہمیشہ مکمل آزادی سے محروم رکھا گیا ہو۔‘

وہ کہتی ہیں: ’مسلم سماج میں عورتوں کو بالکل آزادی نہيں ملی ہے۔ لڑکیوں کوہمیشہ سوالوں کے درمیان گزرنا پڑتا ہے، کالج سے آنے میں دیر کیوں ہوئی؟ بار بار کسی کا فون کیوں آرہا ہے؟ حبکہ لڑکوں سے ایسے سوال نہیں کیے جاتے ہیں۔ آخر لڑکیوں پر یہ بندش کیوں؟‘

حنا لیاقت کا کہنا ہے کہ انہیں پڑھنے کی آزادی ضرور دی گئی ہے لیکن انہیں یہ آزادی نہیں ہے کہ وہ اپنی پسند کا ’کورس‘ کرسکیں۔ان کا کہنا تھا: ’اپنی پسند کا کورس نہ کرنے کے لیے مجھے مذہب کی دلیل دی گئی۔‘

وہ کہتی ہیں: ’ہر بات پر مذہب کی دلیل دی جاتی ہےاور کہا جا تا ہے یہ حرام ہے، جبکہ تاش کھیلنا اور ٹی وی دیکھنا بھی تو اسلام میں حرام ہی ہے لیکن مسلم سماج اس پہلو پر کبھی توجہ نہیں دیتا۔ جب لڑکیاں اپنی مرضی سے کچھ بھی کرنا چاہتی ہيں توہمیشہ انہیں اسلام کی دلیل دی جاتی ہے۔‘

 ہندوستان کے معاشرے میں مسلم خواتین کی حالت غیرمسلم خواتین سے مختلف نہیں ہے۔ اور اگر کوئی مسلم خاندان تعلیم یافتہ ہے تو اس کا فائدہ اس گھر کی مسلم لڑکیوں کو بھی ہورہا ہے۔
سلمہ زیدی
بعض خواتین کے خیال میں عورتوں کی ترقی پر ان کے خاندان کا اثر زیادہ پڑتا ہے، اس میں صرف مذہب کا کردار ہی اہم نہیں ہے۔ سلمہ زیدی، جو کہ بی بی سی ہندی ڈاٹ کام کی ایڈیٹر ہیں، کہتی ہیں کہ ہندوستان کے معاشرے میں مسلم خواتین کی حالت غیرمسلم خواتین سے مختلف نہیں ہے۔ اور اگر کوئی مسلم خاندان تعلیم یافتہ ہے تو اس کا فائدہ اس گھر کی لڑکیوں کو بھی ہورہا ہے۔

اس کے باوجود بیشتر خواتین کے خیال میں ان کے بارے میں فیصلے گھر کے مرد ہی کرتے ہیں۔ لڑکیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اپنی پسند سے شادی کرنا ایک تصور سے زيادہ کچھ نہیں ہے۔

بیشتر شادی شدہ مسلمان عورتوں کا خیال ہے کہ عورتوں کو گھر کے فیصلوں میں آج بھی برابری کی حصہ داری نہیں ہے۔ اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مسلم سماج میں عورتوں کو مردوں سے کم سمجھا جاتا ہے اور انہیں تعلیم حاصل کرنے کا بھی موقع نہیں دیا جاتا ہے۔

یہ تمام خیالات ملک کے پورے مسلم سماج کی عکاسی تو نہیں کرتے ہیں۔ لیکن معاشرے میں مسلم خواتین کے حالات کا خاکہ ضرور کھینچتے ہیں۔ یوں تو ملک میں خواتین ہر شعبے میں اپنی پہچان بنا نے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن مسلم سماج میں عورتوں کی ترقی کی رفتار کافی سست ہے۔

مسلمانوں کی بدحالی
سومسلم طلبہ میں سے3 گریجویشن کرپاتے ہیں
بہار کی خواتین(فائل فوٹو)’خواتین مکھیا‘
بہار میں سرپنچ کی آدھی نشستیں خواتین کے لیئے
معاشرہ بدل رہا ہے
اور ساتھ ہی کشمیری خواتین کا کردار بھی
گھریلو تشدد پر قانون
انڈیا میں گھریلو تشدد پر جامع قانون نافذ
پردے پر بحث کیوں؟
ہندوستانی میڈیا میں پردے پر بحث
مسلمانوں کی ضرورت
مسلمان کو ہتھیاروں کی نہیں عقل کی ضرورت ہے
برقعہ پوش خاتونخواتین کا اجتماع
پچاس ہزار برقعہ پوش خواتین کی شرکت
اسی بارے میں
ریزرویشن کی سیاست
16 May, 2006 | انڈیا
دلت ریلی میں لاکھوں شریک
06 December, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد