مسلم خواتین کی سست رفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان جب آزاد ہوا تو اس نے اپنے لیے جمہوری نظام کا انتخاب کیا، ایک ایسا نظام جو یہ دعوی کرتا ہے کہ سبھی کو برابری کا حق حاصل ہے۔ ہندوستان ایک ایسا سماج ہے جہاں کسی بھی انسان کے لیے آزادی ایک خواب نہیں ہے۔ لیکن آزادی کے ساٹھ برس گزرنے کے بعد بھی معاشرے میں مردوں کا غلبہ ہے اور بات جب مسلمانوں کی ہو تو یہ صورتحال زیادہ خراب نظر آتی ہے۔ ملک کی کل آبادی میں تیرہ فیصد مسلمان ہیں۔ حکومت کی جانب سے تشکیل کردہ سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق مسلمان ہر شعبے میں پچھڑے ہوئے ہیں اور مسلم عورتوں کی حالت سماج میں بد سے بدتر ہے۔ ہندوستان کے معاشرے میں عورتیں کتنی آزاد ہیں؟ روز مرہ کی زندگی میں انہیں کتنی آزادی حاصل ہے؟ اس سوال کے جواب میں جب میں نے بعض مسلم عورتوں سے بات چیت کی تو لگا کہ ہندوستان کا سماج بھلے ہی عورتوں اور مردوں کی برابری کے بات کر رہا ہو، لیکن اصیلت کچھ اور ہی ہے۔ آج بھی بیشتر مسلمان خواتین کو روزمرہ کی زندگی میں وہ آزادی حاصل نہیں ہے جس کی بقول ان کے وہ حق دار ہیں۔ جن مسلم لڑکیوں سے میں نے بات چیت کی ان کا تعلق پڑھے لکھے مڈل کلاس گھرانوں سے تھا۔ انہیں اسکول اور کالج بھیجا گیا اور ان کے ارمان ہیں کہ وہ پڑھ لکھ کر کچھ بن جائيں اور ایک ’آزاد‘ زندگی گزاریں۔
صائمہ خان کا کہنا ہے: ’جب میں اپنے آپ سے یہ پوچھتی ہوں کہ کیا مجھے میرے حصے کی آزادی ملی ہے تو لگتا ہے کہ جیسے لڑکی ہونے کے ناطے مجھے ہمیشہ مکمل آزادی سے محروم رکھا گیا ہو۔‘ وہ کہتی ہیں: ’مسلم سماج میں عورتوں کو بالکل آزادی نہيں ملی ہے۔ لڑکیوں کوہمیشہ سوالوں کے درمیان گزرنا پڑتا ہے، کالج سے آنے میں دیر کیوں ہوئی؟ بار بار کسی کا فون کیوں آرہا ہے؟ حبکہ لڑکوں سے ایسے سوال نہیں کیے جاتے ہیں۔ آخر لڑکیوں پر یہ بندش کیوں؟‘ حنا لیاقت کا کہنا ہے کہ انہیں پڑھنے کی آزادی ضرور دی گئی ہے لیکن انہیں یہ آزادی نہیں ہے کہ وہ اپنی پسند کا ’کورس‘ کرسکیں۔ان کا کہنا تھا: ’اپنی پسند کا کورس نہ کرنے کے لیے مجھے مذہب کی دلیل دی گئی۔‘ وہ کہتی ہیں: ’ہر بات پر مذہب کی دلیل دی جاتی ہےاور کہا جا تا ہے یہ حرام ہے، جبکہ تاش کھیلنا اور ٹی وی دیکھنا بھی تو اسلام میں حرام ہی ہے لیکن مسلم سماج اس پہلو پر کبھی توجہ نہیں دیتا۔ جب لڑکیاں اپنی مرضی سے کچھ بھی کرنا چاہتی ہيں توہمیشہ انہیں اسلام کی دلیل دی جاتی ہے۔‘ اس کے باوجود بیشتر خواتین کے خیال میں ان کے بارے میں فیصلے گھر کے مرد ہی کرتے ہیں۔ لڑکیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اپنی پسند سے شادی کرنا ایک تصور سے زيادہ کچھ نہیں ہے۔ بیشتر شادی شدہ مسلمان عورتوں کا خیال ہے کہ عورتوں کو گھر کے فیصلوں میں آج بھی برابری کی حصہ داری نہیں ہے۔ اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مسلم سماج میں عورتوں کو مردوں سے کم سمجھا جاتا ہے اور انہیں تعلیم حاصل کرنے کا بھی موقع نہیں دیا جاتا ہے۔ یہ تمام خیالات ملک کے پورے مسلم سماج کی عکاسی تو نہیں کرتے ہیں۔ لیکن معاشرے میں مسلم خواتین کے حالات کا خاکہ ضرور کھینچتے ہیں۔ یوں تو ملک میں خواتین ہر شعبے میں اپنی پہچان بنا نے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن مسلم سماج میں عورتوں کی ترقی کی رفتار کافی سست ہے۔ |
اسی بارے میں ریزرویشن کی سیاست16 May, 2006 | انڈیا دلت ریلی میں لاکھوں شریک06 December, 2006 | انڈیا ممبئی: وومن ڈے پر دو ڈرامے 06 March, 2006 | انڈیا بہار: پچاس فیصد خواتین سرپنچ 11 March, 2006 | انڈیا خواتین پر پابندی نہیں: اجمیر درگاہ15 June, 2006 | انڈیا دلہنوں کے لیئے نئے قوانین کی تجویز22 June, 2006 | انڈیا فوج میں خواتین: جنرل کی معذرت21 June, 2006 | انڈیا مغربی بنگال: ’قصور وار سزا پائیں گے‘19 December, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||