BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 December, 2006, 14:19 GMT 19:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مغربی بنگال: ’قصور وار سزا پائیں گے‘

مغربی بنگال کے وزیراعلیٰ بدھ دیو بھٹہ چاریہ
قتل کی تحقیقات اب سی بی آئی کرے گی: وزیراعلیٰ
ہندوستان کی ریاست مغربی بنگال کے وزیراعلیٰ بدھ دیو بھٹہ چاریہ نے حزب اختلاف کے مطالبے پر ایک عورت کی مبینہ عصمت دری اور قتل کے معاملے کی تحقیقات وفاقی تفتیشی ادارے سی بی آئی سے کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ معاملہ سنگور قصبے میں ٹاٹا کمپنی کو الاٹ کی گئی زرعی زمین کے نزدیک پیش آیا تھا۔

سنگور کے باشندوں کا کہنا ہے کہ تپوشی ملک نامی غیر شادی شدہ عورت کی عصمت دری کے بعد بائیں بازو کے کارکنوں نے اسے قتل کر دیا تھا۔ یہ کارکنان الاٹ کی گئی اراضی کی رات دن نگرانی کر رہے تھے۔

وزیراعلیٰ بدھ دیو بھٹہ چاریہ نے بتایا ’اس سے قبل اس معاملے کی تحقیقات کی ذمہ داری ریاستی پولیس کو دی گئی تھی لیکن اب حزبِ اختلاف کے مطالبے پر اس کیس کی تحقیقات سی بی آئی سے کرائی جائیں گی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں جو بھی قصور وار پایا گیا اسے سزا دی جائےگی چاہے اس کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو۔

ریاستی حزبِ اختلاف کی جماعت ترنمول کانگریس ٹاٹا کار فیکڑی کو زرعی اراضی الاٹ کرنے کی مخالفت کر رہی ہے اور اب پارٹی نے مبینہ حملے کے خلاف احتجاج کے طور پر جمعرات اور جمعہ کو ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

کمپنی کو زمین الاٹ کر نے کی وجہ سے ہم اپنی روزی روٹی کے حق سے محروم ہوگئے ہیں اور جو معاوضہ ہمیں ملا وہ بہت کم ہے
سنگور کے کسانوں کا الزام

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا یہ ایک خودکشی کا کیس ہے یا پھر ریاستی حکومت سے ناراض کسانوں نے اسے دوسری شکل دینے کی کوشش کی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ٹاٹا کمپنی کو ارضی الاٹ کر دی گئی ہے جو جلد ہی اپنا کام شروع کردے گی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ کم قیمت پر گاڑیوں کو سنگور میں بنائےگی جس کی قیمت صرف ایک لاکھ روپے ہوگی۔ لیکن سنگور کے کسانوں نے الزام عائد کیا ہے کہ کمپنی کو زمین الاٹ کر نے کی وجہ سے وہ اپنی روزی روٹی کے حق سے محروم ہوگئے ہیں اور جو معاوضہ انہیں ملا وہ بہت کم ہے۔

گزشتہ چالیس دنوں کے دوران پولیس اور مقامی افراد کے درمیان کئی جھڑپیں بھی ہوچکی ہیں۔

اسی بارے میں
’اب تبدیلی ضروری ہے،
21 April, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد