دلہنوں کے لیئے نئے قوانین کی تجویز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں عورتوں کے قومی کمیشن نےایسی دلہنوں کی حفاظت کے لیئے نئے قوانین بنانے کی سفارش کی ہے جنہیں ملک سے باہر رہنے والے (این آر آئی ) شوہر چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ قومی کمیشن کی چیرپرسن گرجا ویا نے کہا ہے کہ انکا کمیشن حکومت کو ایسے قانون بنانے کی سفارش کرے گا جو ملک سے باہر رہنے والے لوگوں سے شادی کی دھوکا دہی سے بچا سکے۔ انکا کہنا تھا کہ ایسے بہت سے معاملے سامنے آئے جس میں کروڑوں روپے کا جہیز لے کر این آر آئی شاد ی کرتے ہيں اور پھر لڑکی کو چھوڑ دیتے ہیں۔ ’این آر آئی‘ یعنی غیر ملکیوں کے ساتھ شادی کے بعد پیش آنے والے مسائل پر دو روز سے جاری ایک ’ورک شاپ‘ کے اختتام کے بعد ویاس ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کر رہی تھی۔ انکا کہنا تھا کہ این آر آئی سمیت سبھی شادیوں کی رجسٹریشن لازمی قرار دی جائے اور اس کے علاوہ ایسے تفصیلی دستاویزات جمع کرنے کے لئے احکامات جاری کئے جائيں جس میں بیوی کی تصویر کے ساتھ این آر آئی دولہا کے پاسپورٹ کی کاپی بھی شامل ہو۔
اس کے علاوہ محترمہ ویاس نے سبھی ہندوستانی ہائی کمیشنز اور سفارت خانوں میں قانونی صلاح و مشورہ کے لئے خصوصی سیل تشکیل دینے کی بھی تجویز پیش کی ہے ۔ انکا کہنا تھا کہ یہ خصوصی سیل ان عورتوں کو وہاں مدد فراہم کریں گے جہاں انکے شوہر انہیں چھوڑ دیتے ہیں۔ محترمہ ویاس نے تسلیم کیا کہ ایسی خواتین کی اصل تعداد کا پتہ نہیں ہے لیکن پنجاب ، راجستھان، کیرالہ اور آندھرا پردیش میں اس طرح کے کافی واقعے سامنے آئے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ مغربی ملکوں میں جانے کی خواہش رکھنے والوں میں سرِ فہرست پنچاب کے باشندے ہیں اور یہاں ایسے معاملوں کی تعداد تقریبا پندرہ سو ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انکے کمیشن نے نئے قانون کے مطالبہ سے قبل ہی ایسے معاملوں کی صحیح تعداد کا پتہ لگانے کے لئے ایک سٹڈی کا آغاز کر دیا ہے۔ ورک شاپ میں این آر آئی شادیوں کے تنازعہ کے حل کے لئے ہندوستان کو بین الاقوامی کنونشن میں دستخط کرنے کے لئے بھی مشورہ دیا گیا۔ | اسی بارے میں فوج میں خواتین: جنرل کی معذرت21 June, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||