BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 June, 2006, 00:35 GMT 05:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوج میں خواتین: جنرل کی معذرت
انڈین آرمی میں مرد نہ ہوں تو بھی فرق نہیں پڑے گا: سشمہ سُوراج
انڈین آرمی میں سیکنڈ اِن کمانڈ نے فوج کی طرف سے جاری ہونے والے اس بیان پر خواتین سے معذرت کر لی ہے کہ فوج کو خواتین افسران کی ضرورت نہیں۔

لیفٹینٹ جنرل ایس پٹابھیرمن کے بیان سے حقوقِ نسواں کی سرگرم کارکنان میں کافی اشتعال پیدا ہوگیا تھا اور انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ پٹابھیرمن کو نوکری سے نکال دیا جائے۔

پٹابھیرمن نے یہ بیان اس وقت دیا تھا جب خبر آئی تھی کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک نوجوان خاتون افسر نے خود کشی کر لی ہے۔

انڈیا کی فوج کی تعداد لگ بھگ دس لاکھ ہے جس میں ایک ہزار کے قریب خواتین آفیسر ہیں جو سب کی سب غیر لڑاکا مناصب پر مصروفِ کار ہیں۔

تاہم منگل کے روز خواتین گروپوں کی طرف سے ان کے بیان پر غصے کے اظہار کے بعد پٹابھیرمن نے رسمی طور پر معذرت کر لی ہے۔

انہوں نے کہا: ’اگر میرے جملوں سے خواتین افسران کے احترام کے حوالے سے کوئی شک و شبہہ پیدا ہوا ہے یا انہیں اس بیان سے تکلیف پہنچی ہے تو میں خواتین گروپوں، معاشرے کے طبقات یا افراد سے معافی مانگنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا۔‘

انڈیا کی فوج نے خواتین کو چودہ برس قبل بھرتی کرنا شروع کیا تھا

ان کی طرف سے معذرت کا بیان جاری ہونے سے قبل انڈیا میں اپوزیشن کے رہنماؤں اور سرگرم خواتین گروپوں نے شدید احتجاج کیا تھا۔

گزشتہ ہفتے ایک اخبار نے ان کے حوالے سے کہا تھا کہ انڈین فوج میں عمومی طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ آرمی میں خواتین نہ ہوں تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

انڈیا میں حزبِ اختلاف کی بڑی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی ترجمان سشمہ سُوراج کا کہنا ہے کہ حکومت کو فوج کے جرنیلوں کو بتا دینا چاہیئے کہ ’فوج میں اگر مرد نہ بھی ہوں تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔‘

انڈیا میں خواتین کے قومی کمیشن نے بھی لیفٹیننٹ جنرل پاٹابھیرمن کے بیان کو انتہائی غیرذمہ دارانہ قرار دیا تھا۔

ہفتے کو فوج کی طرف سے کہا گیا تھا کہ پٹابھیرمن کے الفاظ کو سیاق و سباق سے ہٹ کر تحریر کیا گیا ہے۔ وزیرِ دفاع پرناب مکھرجی نے اس مسئلے کو یہ کہہ کر ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی تھی کہ حکومت چاہتی ہے کہ فوج میں مزید خواتین آئیں۔

تاہم خواتین کے گروپوں نے اصرار کیا تھا کہ جنرل بھیرمن کا بیان اس بات کا واضح اشاہ ہے کہ فوج میں عورتوں کے بارے میں امتیازی رویہ پایا جاتا ہے۔

اسی بارے میں
خواتین کی جنگ
21 November, 2003 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد