| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
خواتین کی جنگ
بھارتی میں اگلے ماہ ہونے والے ریاستی انتخابات میں خواتین بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔ چار میں سے تین ریاستوں میں وزیرِ اعلٰی کے عہدے کے لئے معروف خواتین امید وار انتخابات میں شامل ہوئی ہیں۔ ان خواتین میں سے کانگریس کی شیلا ڈکشٹ اور بی جے پی کی اوما بھارتی اور وسوندھارا راجے وزیر اعلٰی کے عہدے کے لئے مضبوط امیدوار تصور کی جارہی ہیں۔ دہلی کی وزیرِ اعلٰی شیلا ڈکشٹ اپنے عہدے کو برقرار رکھنے کے لئے انتخابات لڑیں گی۔ ڈکشٹ نے جب سن انیس سو اٹھانوے میں پہلی بار دہلی میں اپنا عہدہ سنبھالا تھا تو وہ زیادہ بااثر تصور نہیں کی جاتی تھیں۔ اب پینسٹھ سالہ خاتون رہنما اپنا مقام کافی مضبوط کرچکی ہیں اور ان کی جماعت کی انتخابی مہم اب ان ہی کی شخصیت پر مرکوز ہے۔ ڈکشٹ نے بھارتی دارالحکومت میں سڑکیں، پانی اور بجلی کا نظام بہتر بنانے کے لئے بہت سے اقدامات کئے ہیں۔ انہیں آئندہ انتخابات میں بی جے پی کی پونم آزاد نے چیلنج کیا ہے جوکہ ایک سابق کرکٹر کی اہلیہ ہیں۔ پونم آزاد نے ان قیاس آرائیوں کی تردید کی ہے کہ انہیں ان کے خاندانی پس منظر کی بنیاد پر انتخابات میں نامزد کیا گیا ہے۔ مدھیا پردیش سے بی جے پی کی اوما بھارتی وزیرِ اعلٰی کے لئے امیدوار ہیں۔ بھارتی بی جے پی کے سخت گیر موقف کی نمائندگی کرتی ہیں۔ بھارت کی سابق وزیر وسوندھارا راجے وزیر اعلٰی کے عہدے کے لئے ایک دلچسپ امیدوار ہیں۔ اتنی خواتین کے باوجود انتخابات میں کلی طور پر خواتین امیدواروں کی تعداد مردوں کی نسبت محض دس فیصد ہے۔ سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ زیادہ خواتین امیدوار اس لئے نامزد نہیں کی گئیں کیونکہ خواتین انتخابات کم ہی جیتتی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||