BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 October, 2006, 09:48 GMT 14:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گھریلو تشدد سے متعلق قانون نافذ

گھریلو تشدد کے خلاف نئی دہلی میں ایک مظاہرہ
ہندوستان میں عورتوں کے خلاف ہونے والے گھریلو تشدد سے متعلق سخت قانون عمل میں آگیا ہے۔

اس قانون کے تحت شادی شدہ اور بغیر شادی کیے اپنے ’پارٹنر‘ کے ساتھ رہنے والی عورتیں کسی بھی طرح کے گھریلو تشدد کے خلاف قانونی کاروائی کرسکتی ہیں۔ اس قانون میں نہ صرف جسمانی تشدد بلکہ کسی بھی طرح کے نفسیاتی اور جنسی استحصال سے متعلق اصول و ضوابط موجود ہیں۔

ان اصولوں کے تحت لڑکا نہ پیدا ہونے پر تعنے دینا، جہیز نہ لانے پر ظلم کرنا، عورت کی مرضی کے بغیر اس کے ساتھ جنسی رشتہ بنانا، یا لڑکی کی مرضی کے بغیر شادی کے لئے مجبور کرنے جیسی زیادتیوں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی۔

اس قانون کے تحت بیس ہزار کا جرمانہ یا پھر ایک سال کی قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ ویمن اینڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ کی جونیئر وزیر رینوکا چودھری کا کہنا ہے کہ یہ قانون خواتین کو گھریلو تشدد سے بچائے گا کیونکہ ہندوستان میں کم از کم ستر فیصد عورتیں گھریلو تشدد کا شکار ہیں۔

 ہندوستان میں ابھی تک عورتوں کے خلاف ہونے والے گھریلو تشدد سے متعلق کوئی باقاعدہ قانون نہیں تھا۔ نئے قانون نے عورتوں کے ساتھ پیش آنے والے گھریلو تشدد کو ایک ’ڈفینشن‘ دی ہے۔ اس قانون میں نہ صرف جسمانی بلکہ نفسیاتی اور جنسی تشدد کو بھی قانون کے دائرے میں لایا گیا ہے۔
سرکردہ وکیل ریکھا اگروال
مختلف جائزوں کے مطابق ہندوستان میں ہر چھ گھنٹے میں ایک شادی شدہ عورت کو زندہ جلایا جاتا ہے یا پھر اسے خود کشی کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

سرکردہ وکیل ریکھا اگروال نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہندوستان میں ابھی تک عورتوں کے خلاف ہونے والے گھریلو تشدد سے متعلق کوئی باقاعدہ قانون نہیں تھا۔ نئے قانون نے عورتوں کے ساتھ پیش آنے والے گھریلو تشدد کو ایک ’ڈفینشن‘ دی ہے۔ اس قانون میں نہ صرف جسمانی بلکہ نفسیاتی اور جنسی تشدد کو بھی قانون کے دائرے میں لایا گیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اب متاثرہ عورتیں مجسٹریٹ کے پاس جاکر شکایت درج کراسکتی ہیں اور اس کے لۓ انہیں کسی وکیل کی ضرورت نہیں ہوگي۔ شکایت ملنے کے تین دن کے اندر اندر مجسٹریٹ کے سامنے ملزم کو پیش ہونا ہوگا اور جج کو 60 دن کے اندر پورے معاملے کا فیصلہ سنانا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ تشدد کی شکار عورتیں اگر اپنے اوپر ہونے والس ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھا سکتی ہیں تو ان کا کوئی رشتہ دار یا دوست ان کی شکایت مجسٹریٹ کے سامنے پیش کر سکتا ہے۔

اس نۓ قانون پر بیشتر عورتوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے لیکن بعض کو اس بات کا خدشہ ہے کہ قانون عمل میں آنے سے عورتوں کے ساتھ ہونا والے گھریلوں تشدد پوری طرح ختم نہیں ہونگے۔

 اگر گھریلو تشدد پوری طرح سے ختم بھی نہیں ہوگا تو آدمیوں پر قانون کا دباؤ ضرور بنا رہے گا۔ کیونکہ انہیں پتہ ہوگا کہ اگر انہوں نے عورت کو پریشان کیا تو وہ عدالت جا سکتی ہے۔
انورادھا شرما
اڑتیس سالہ کسم چوہان کا ماننا ہے کہ نۓ قانون سے ان ساری عورتوں کو راحت ملے گی جن کو جسمانی اور نفسیاتی تشدد سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ ’ہمارے سماج میں عورتوں کو ہمیشہ آدمی سے کمزور سمجھا جاتا ہے خواہ وہ عورت کتنی بھی پڑھی لکھی ہو۔ ایسے حالات میں نیا قانون مدد گار ثابت ہوگا۔‘

انورادھا شرما کا خیال ہے کہ ’اگر گھریلو تشدد پوری طرح سے ختم بھی نہیں ہوگا تو آدمیوں پر قانون کا دباؤ ضرور بنا رہے گا۔ کیونکہ انہیں پتہ ہوگا کہ اگر انہوں نے عورت کو پریشان کیا تو وہ عدالت جا سکتی ہے۔‘

کسم کا ماننا ہے کہ نۓ قانون سے تھوڑی مدد ضرور ملے گی لیکن گھریلو تشدد پوری طرح سے ختم نہیں ہوگا۔ ہندوستان میں عورتوں کے ساتھ گھریلو تشدد کے واقعات عام ہیں۔

اس نۓ قانون سے ان عورتوں کو راحت ملنے کی امید ہے جو ہر دن کسی نہ کسی طرح کے گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف قانون بنانے سے مسئلے کا حل نہیں ہوگا اور سماج میں لوگوں کی ذہنیت بدلنے کے ضرورت ہے۔

شادی فراڈ
انڈین نژاد دھوکہ بازوں کا نیا شکار: د لہنیں
نشا شرماعام خاتون کا خاص کام
نشا شرما کا ذکر اب بھارت کی کورس کی کتابوں میں
انٹرنیٹ عورتوں نے مات دیدی
عورتوں کو انٹرنیٹ بزنس میں برتری حاصل ہے
سونیا گاندھیدنیا کی سو خواتین
سونیا دنیا کی تیسری طاقت ورترین خاتون ہیں۔
مس سے مسز ورلڈ
شادی شدہ حسینہ عالم کا مقابلہ اس برس انڈیا میں
برقعہ پوش خاتونخواتین کا اجتماع
پچاس ہزار برقعہ پوش خواتین کی شرکت
بہار کی خواتین(فائل فوٹو)’خواتین مکھیا‘
بہار میں سرپنچ کی آدھی نشستیں خواتین کے لیئے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد