گھریلو تشدد سے متعلق قانون نافذ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں عورتوں کے خلاف ہونے والے گھریلو تشدد سے متعلق سخت قانون عمل میں آگیا ہے۔ اس قانون کے تحت شادی شدہ اور بغیر شادی کیے اپنے ’پارٹنر‘ کے ساتھ رہنے والی عورتیں کسی بھی طرح کے گھریلو تشدد کے خلاف قانونی کاروائی کرسکتی ہیں۔ اس قانون میں نہ صرف جسمانی تشدد بلکہ کسی بھی طرح کے نفسیاتی اور جنسی استحصال سے متعلق اصول و ضوابط موجود ہیں۔ ان اصولوں کے تحت لڑکا نہ پیدا ہونے پر تعنے دینا، جہیز نہ لانے پر ظلم کرنا، عورت کی مرضی کے بغیر اس کے ساتھ جنسی رشتہ بنانا، یا لڑکی کی مرضی کے بغیر شادی کے لئے مجبور کرنے جیسی زیادتیوں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی۔ اس قانون کے تحت بیس ہزار کا جرمانہ یا پھر ایک سال کی قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ ویمن اینڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ کی جونیئر وزیر رینوکا چودھری کا کہنا ہے کہ یہ قانون خواتین کو گھریلو تشدد سے بچائے گا کیونکہ ہندوستان میں کم از کم ستر فیصد عورتیں گھریلو تشدد کا شکار ہیں۔ سرکردہ وکیل ریکھا اگروال نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہندوستان میں ابھی تک عورتوں کے خلاف ہونے والے گھریلو تشدد سے متعلق کوئی باقاعدہ قانون نہیں تھا۔ نئے قانون نے عورتوں کے ساتھ پیش آنے والے گھریلو تشدد کو ایک ’ڈفینشن‘ دی ہے۔ اس قانون میں نہ صرف جسمانی بلکہ نفسیاتی اور جنسی تشدد کو بھی قانون کے دائرے میں لایا گیا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اب متاثرہ عورتیں مجسٹریٹ کے پاس جاکر شکایت درج کراسکتی ہیں اور اس کے لۓ انہیں کسی وکیل کی ضرورت نہیں ہوگي۔ شکایت ملنے کے تین دن کے اندر اندر مجسٹریٹ کے سامنے ملزم کو پیش ہونا ہوگا اور جج کو 60 دن کے اندر پورے معاملے کا فیصلہ سنانا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تشدد کی شکار عورتیں اگر اپنے اوپر ہونے والس ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھا سکتی ہیں تو ان کا کوئی رشتہ دار یا دوست ان کی شکایت مجسٹریٹ کے سامنے پیش کر سکتا ہے۔ اس نۓ قانون پر بیشتر عورتوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے لیکن بعض کو اس بات کا خدشہ ہے کہ قانون عمل میں آنے سے عورتوں کے ساتھ ہونا والے گھریلوں تشدد پوری طرح ختم نہیں ہونگے۔ انورادھا شرما کا خیال ہے کہ ’اگر گھریلو تشدد پوری طرح سے ختم بھی نہیں ہوگا تو آدمیوں پر قانون کا دباؤ ضرور بنا رہے گا۔ کیونکہ انہیں پتہ ہوگا کہ اگر انہوں نے عورت کو پریشان کیا تو وہ عدالت جا سکتی ہے۔‘ کسم کا ماننا ہے کہ نۓ قانون سے تھوڑی مدد ضرور ملے گی لیکن گھریلو تشدد پوری طرح سے ختم نہیں ہوگا۔ ہندوستان میں عورتوں کے ساتھ گھریلو تشدد کے واقعات عام ہیں۔ اس نۓ قانون سے ان عورتوں کو راحت ملنے کی امید ہے جو ہر دن کسی نہ کسی طرح کے گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف قانون بنانے سے مسئلے کا حل نہیں ہوگا اور سماج میں لوگوں کی ذہنیت بدلنے کے ضرورت ہے۔ |
اسی بارے میں اینوریگزیا: خوبصورتی کے خطرات15 October, 2004 | انڈیا ہندو خواتین کو حق وراثت 17 August, 2005 | انڈیا کشمیری خواتین کا کردار بدل رہا ہے25 October, 2006 | انڈیا جہیز کی مخالف خاتون ٹیکسٹ بکس میں29 September, 2004 | انڈیا سیکس سکینڈل: سابق وزیرگرفتار 20 June, 2006 | انڈیا سکینڈل مقدمات، کشمیر سے منتقل04 September, 2006 | انڈیا ہریانہ: جنسی ہراس کے خلاف کمیٹیاں 17 September, 2006 | انڈیا ہم جنس پرستی، ایڈز اور قانون29 September, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||