شادی فراڈ : صرف نقدی اور سونا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا میں وکلاء نےمطالبہ کیا ہے کہ بیرون ملک رہائش پذیر انڈین نژاد لوگوں کی انڈیا میں شادی کرنے کے عمل کو سخت بنایا جانا چاہیے۔ انڈیا میں کئی ہزار لڑکیاں اور ان کے خاندان غیر ملکی دھوکہ بازوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔انڈیا کی ریاست پنجاب میں صرف پندرہ ہزار ایسے لڑکیاں جو غیر ملکی دھوکہ بازوں کا شکار ہو چکی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق انڈین اور پاکستانی نژاد کینیڈین، برطانوی اور امریکی شہری پاکستان اور بھارت میں آ کر شادی کرتے ہیں اور کچھ عرصہ تک دلہن کے ساتھ رہنے کے بعد سسرال کی طرف سے جہیز میں ملنے والی قیمتوں اشیا کے ساتھ غائب ہو جاتے ہیں۔ اس نئے فراڈ میں نہ صرف خاندانوں کو مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے بلکہ معاشرے میں بے عزتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بچوں کی ایسے تعداد پیدا ہو رہی ہے جنہوں نے کبھی اپنے والد کو دیکھا ہی نہیں۔ انڈین پنجاب کی ایک وکیل دلجیت کور نے بی بی سی ورلڈ سروس کو بتایا ہے کہ انڈین لڑکیوں کے ساتھ بہت ناانصافی ہو رہی ہے اور اس کی تلافی کرنے کے لیے ملکوں کے درمیان ایسے معاہدے کیے جانے چاہیے جن کے تحت متاثرین کو انصاف مل سکے اور دھوکہ باز پکڑے جا سکیں۔ وکیل دلجیت کور نے کہا دھوکہ بازوں کی شکار خواتین کے پاس انصاف حاصل کرنے کا کوئی وسیلہ نہیں ہے اور کئی بھارتی نژاد دھوکہ باز انڈیا میں شادی کو دولت اکھٹی کرنے کا آسان ذریعہ سجمھتے ہیں۔ وکیل کے مطابق دھوکہ بازوں کا تعلق اکثر امریکہ، برطانیہ، اور کینیڈا سے ہوتا ہے اور وہ ایسے لوگوں کی اولاد ہیں جو انڈیا چھوڑ کر ان ملکوں میں آباد ہوئے جہاں یہ دھوکہ باز پیدا ہوئے اور وہیں پلے بڑھے۔ بیرونی دھوکہ باز جہیز میں نقدی، سونا اور دیگر قیمتی لینے پر اصرار کرتے ہیں اور کچھ عرصہ انڈیا میں رہنے کے بعد ملک سے چلے جاتے اور متاثرین کے پاس ان کا نام پتہ بھی نہیں ہوتا۔ وکیل دلجیت کور کے مطابق دھوکہ باز تین نسلوں کو برباد کر دیتے ہیں اور وہ ایسے بچوں کو جانتی ہے جن کی عمریں پانچ سے دس سال ہیں اور انہوں نے کبھی بھی اپنے باپ کو نہیں دیکھا۔ ایک ایسی ہی لڑکی پوروا نے بتایا کہ اس نے جس شخص سے شادی کی تھی اس نے اسے برطانیہ لے جانے کا وعدہ کیا تھا جہاں وہ اپنی تعلیم مکمل کر سکے گے۔ پوروا کہتی ہے کہ اس کے بھی ارمان تھے جو چکنا چور ہو چکے ہیں اور اس کو دھوکہ باز اس کو تباہ کر کے ملک سے چلا گیا ہے۔ پوروا نے ایسی انڈین لڑکیوں کو مشورہ دیا جو انڈین نژاد لوگوں سے شادی کرنا چاہتی ہیں کہ وہ شادی سے پہلے یہ پتہ لگا لیں کہ لڑکا کیا کرتا ہے اور آئندہ کیا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ برطانیہ کی ایک وکیل اوشا سدھ نے کہا کہ حکومت برطانیہ اور انڈیا کو اس مسئلے پر قابو پانے کی کوشش کرنے ہوگی۔انہوں نے کہا بعض لوگ انڈیا میں شادی کے لیے اشتہار دیتے ہیں اور ایسے اشتہارات پر پابندی ہونی چاہیے۔ اوشا سدھ نے کہا کہ دھوکا بازوں کا شکار ہونے والی لڑکیوں کے وکیلوں کو شاید یہ بات معلوم نہیں ہے کہ متاثرہ لڑکیاں دھوکہ بازوں کے ملکوں سے فنڈنگ حاصل کر سکتی ہیں۔ | اسی بارے میں شادی آن لائن02 September, 2003 | صفحۂ اول بوٹے کی انٹرنیٹ شادی16.07.2003 | صفحۂ اول ’ہم خود کو زندہ جلا لیں گے‘05 December, 2005 | پاکستان شادیوں کی رجسٹریشن لازمی14 February, 2006 | انڈیا برطانیہ میں کزنز سے شادی پر پابندی؟18 November, 2005 | Debate جوڑوں کے لئے تربیتی ادارے12 May, 2005 | انڈیا اک دلہا چاہئیے آن لائن11.04.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||