ہریانہ: جنسی ہراس کے خلاف کمیٹیاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی جنوبی ریاست ہریانہ میں حکومت نے سکولوں اور تعلیمی اداروں میں جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے واقعات کی روک تھام کے لیئے خصوصی کمیٹیاں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ لڑکیوں کی ان شکایات کے بعد کیا گیا ہے جس میں انہوں نے اپنے اساتذہ پر مبینہ زیادتی اور یہاں تک کہ آبرو ریزی کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ گزشتہ دنوں ہریانہ کے مرکزی شہر حصار میں سکول کی ایک نوعمر طالبہ کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے بعد لوگوں کی طرف سے احتجاج شروع کیا گیا تھا۔ اس سے قبل جنوبی ضلع جند کے درجانپور گاؤں میں دو مرد اساتذہ ایک طالبہ کو دو ماہ تک جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے تھے۔ ہریانہ کے ایک سینئر افسر آر آر پھولیا نے بتایا کہ حکومت جنسی طور ہر ہراساں کیے جانے کے بارے اقدامات اٹھانے کے حوالے سے بہت سنجیدہ ہے اور اس قسم کے غیر اخلاقی اور قابل اعتراض واقعات تعلیمی اداروں خاص طور پر سکولوں میں پیش آ رہے ہیں اور ان کی شرح میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کی ہر ڈویژن میں نئی نگران کمیٹیاں قائم کی جائیں گی جن میں وکیل، خواتین، صحافی، ماہر تعلیم اور ریٹائرڈ گورنمنٹ افسران کے علاوہ ضلعی انتظامیہ کے سینئر حکام بھی شامل ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کی شکایت براہ راست ان کمیٹیوں کے اراکین سے کی جا سکے گی۔ ان اراکین کے نام اور رابطے کے نمبر بھی شائع کیے جائیں گے تاکہ سکولوں کی تمام طالبات کی رسائی ان اراکین تک ممکن ہو سکے۔ ان کمیٹیوں کے ذیلی کمیٹیاں ہر ماہ حکومت کو اس متعلق رپورٹ پیش کرنے کی مجاز ہوں گی۔ | اسی بارے میں الٹراساؤنڈ اور جنسی ہلاکتیں22 January, 2005 | انڈیا جنسی زیادتی: پانچ ملزمان کو عمر قید24 June, 2005 | انڈیا کشمیر میں جنسی سکینڈل پر ہڑتال05 May, 2006 | انڈیا طلباء میں جنسی تعلیم میں دلچسپی 18 May, 2006 | انڈیا جنسی سکینڈل: پولیس افسر گرفتار 07 June, 2006 | انڈیا ’مسلمانوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے‘18 August, 2006 | انڈیا جنسی اشتہارات پر پابندی16 December, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||