جنسی زیادتی: پانچ ملزمان کو عمر قید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں ایک عدالت نےچار سال قبل ہونے والے اجتماعی جنسی زیادتی کے واقعے میں ملوث پانچ افراد کو عمر قید اور سات کو تیس سال قید کی سزا سنائی ہے۔ ماہراشٹر کے ایک دور افتادہ گاؤں میں ان افراد نے پندرہ خواتین کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا تھا۔ اس مقدمے میں دو اور ملزمان کو بری کر دیا گیا۔ ممبئی سے بی بی سی کے نمائندہ زبیر احمد نے اطلاع دی ہے کہ فیصلے کے وقت عدالت میں متعلقہ گاؤں سےتعلق رکھنے والے مرد اور خواتین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جس میں زیادتی کا نشانہ بننے والی خواتین اور ان کے رشتہ دار بھی شامل تھے۔ عدالت نے جب فیصلہ سنایا تو لوگ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ اس فیصلہ پر وہ اور ان کے ساتھی خوش ہیں۔ بی بی سی کے نمائندے کے مطابق سزا پانے والے سب کے سب ملزمان کا تعلق جرائم پیشہ ایک گروہ سے ہے جن کا علاقے میں کافی خوف پایا جاتا ہے۔ اس مقدمے میں گواہی دینے والے باون گواہوں نے کہا کہ چار گھنٹے تک ان لوگوں نے خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی اور اس دوران ان کے گاؤں کو لوٹا جاتا رہا۔ جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی خواتین میں چھبیس سال سے ساٹھ سال تک کی خواتین شامل تھیں اور ان میں چند کے ساتھ کئی مرتبہ جنسی زیادتی کی گئی۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے مطابق بھارت میں معاشرے کے ڈر کی وجہ سے جنسی زیادتی کا شکار بننے والی بہت سے خواتین کبھی مقدمات درج ہی نہیں کراتیں۔ حکومتی اعدادو شمار کے مطابق سن دوہزار دو میں بھارت بھر میں تقریباً سولہ ہزار خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||