انڈیا میں عورتیں چھا گئیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں انٹرنیٹ کے کاروبار میں عورتوں نے مردوں کو بری طرح مات دے دی ہے اور دیہی علاقوں میں میں سو میں سے اسی انٹرنیٹ کیفے عورتیں چلا رہی ہیں۔ انڈین انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی کا جس نے ہندوستانی دیہات میں رہنے والی 700ملین آبادی کا دنیا کے ساتھ رابطہ بنانے کے لیے ایک پروگرام شروع کیا تھا، کہنا ہے کہ اس وقت انٹرنیٹ کی چھوٹی دکانوں میں 80 فیصد کو عورتیں چلا رہی ہیں۔ مس سنجے کے اپنے گاؤں میں ساٹھ عورتیں اسی طرح کے انٹرنیٹ کیفے میں لائن بنا کر آنکھوں کے ماہر کے ساتھ ویڈیو کانفرنس میں اپنی باری کا انتظار کر رہی ہیں۔ اس وقت صرف تامل ناڈو میں ایک ہزار انٹرنیٹ کیفے ہیں۔ ایوری ویمن پراجیکٹ کے ڈائریکٹر گراہم آنند کے مطابق عورتیں زیادہ توجہ کے ساتھ اپنے کام کرتی ہیں۔ گراہم آنند کے مطابق شہر میں بھی مرد اپنے کام پر نو، ساڑھے نو بجے ہی پہنچتے ہیں لیکن دیہات میں عورتیں اکثر صبح ساڑھے چھ بجے سے ہی کام پر آ جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پراجیکٹ شروع کرتے ہوئے انہوں نے ایسی عورتوں کو چنا تھا جنہیں اپنے کام کا شوق ہو۔ اکیس سالہ آننتی جس نے کمپوٹر ڈپلومہ حاصل کیا ہوا ہے اپنے گاؤں میں واحد عورت ہیں جس کے پاس ایک منافع بخش روزگار ہے۔ آننتی نے کہا کہ اسے فخر ہے کہ وہ اپنے لوگوں کا دنیا کے ساتھ رابطہ کرانے میں مدد کر رہی ہے۔ آننتی نے بتایا’ مجھے لڑکی ہونے کے وجہ سے تعلیم حاصل کرنے میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن اب مجھے فخر ہے کہ میں نے تعلیم حاصل کی اور اپنے لوگوں کے کام آ رہی ہوں‘۔ ستاسٹھ سالہ روی مار کو، جو ذیابیطس کی مریض ہیں، نہیں پتہ تھا کہ ان کی آنکھوں کا آپریشن ہو سکتا ہے یا نہیں اور وہ یہ معلوم کرنے کے لیے شہر جانا نہیں چاہتی تھیں۔ اب روی مار کو تمام معلومات گھر کے نزدیک انٹرنیٹ کیفے کے ذریعے مل چکی ہیں۔ ستاسٹھ سالہ روی مار نے کہا ’مجھے سفر کرنے سے نفرت ہے اور میں انٹرنیٹ سے بہت متاثر ہوئی ہوں۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایسے بھی ممکن ہو سکے گا۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||