جہیز کی مخالف خاتون ٹیکسٹ بکس میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سولہ ماہ پہلے ایک جوان لڑکی بھارت کے میڈیا اور عوام کی باتوں کا موضوع بنی۔ یہ وہ لڑکی تھی جس نے اپنے منگیتر کی جانب سے جہیز کے مطالبے پر نہ صرف اسے گرفتار کروایا بلکہ اس شادی ہی سے انکار کردیا۔ بھارت میں اب چھٹے درجے کی انگریزی کی ٹیکسٹ بکس میں ایک پورا باب ہی نشا شرما کی کہانی کے لیے مختص کردیا گیا ہے۔ ’جہیز کے مطالبے پر جیل‘ نامی یہ کہانی سب سے پہلے گزشتہ سال مئی میں ایک اخبار میں شائع ہوئی تھی۔ اب نشا شرما معروف کرکٹر سچن ٹنڈولکر اور خلا باز کلپنا چاولہ کی طرح بچوں کے کورس کی کتابوں میں شامل ایک اہم شخصیت بن چکی ہیں۔ دہلی کے تعلیمی شعبہ کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ کتابوں میں ایسی شخصیات کا ذکر شامل کرنے سے ممکن ہے بچے انہیں اپنا آئیڈیل بنالیں۔ تاہم نشا شرما خود اس اقدام پر بہت حیران ہیں۔ ’میرا نہیں خیال تھا کہ میری کہانی بچوں کو کلاس رومز میں پڑھائی جائے گی۔ میں نے تو ایسا کوئی خاص کام نہیں کیا‘۔ نشا کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ سبق اپنے والد سے سیکھا ہے جن کا موقف ہے ’اگر کوئی غلط کام آپ دیکھیں تو کھڑے ہوجائیں اور اس سے منہ نہ موڑیں۔ اگر آپ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں گے تو مسئلہ بڑھتا چلا جائے گا‘۔ نشا شرما نے جہیز کے مطالبے پر منش دلال سے شادی سے انکار کردیا تھا جس کے بعد ایک کمپیوٹر انجینیئر نے ان سے شادی کرلی۔ نشا کا کہنا ہے ’مجھے مسز نشا شرما کہا جائے‘ تاکہ لوگوں کو یہ معلوم ہوسکے کہ اب میں شادی شدہ ہوں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||