’ایڈلٹری‘قانون میں تبدیلی کی سفارش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دلی ہائی کورٹ نے’ایڈلٹری‘ یعنی شادی شدہ مرد یا عورت کے کسی غیر کے ساتھ جنسی رشتے سے متعلق قوانین میں تبدیلی کی سفارش کی ہے۔ ہندوستان میں ناجائز جنسی رشتہ سے متعلق موجودہ قانون کے تحت صرف شوہرکو ہی سزا دی جاسکتی ہے جبکہ بیوی کو اس سے الگ رکھا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قانون میں ترمیم کی ضرورت ہے اور موجودہ زمانے میں ایڈلٹری کو مجرمانہ زمرے میں نہیں رکھا جانا چاہیے۔ تعزیرات ہند کی دفعہ497 کے تحت بیوی کی علاوہ کسی غیر کے ساتھ جنسی تعلقات رکھنے پر پانچ برس قید با مشقت کی سزا ہے۔ ہائی کورٹ کے جج نے کہا ہے کہ اب وقت بدل چکا ہے ’ایڈلٹری کے متعلق سنہ اٹھارہ سو سینتیس میں ڈرافٹ کیے گئے لارڈ میکالی کے قانون میں تبدیلی کی ضرورت ہے‘۔ دلی کے ایک شخص نے اپنی بیوی کے خلاف ناجائز جنسی تعلقات کا مقدمہ دائر کیا تھا لیکن عدالت نے یہ کہہ کر عرضی خارج کر دی ہے کہ موجودہ قا نون کے مطابق ایڈلٹری کے لیے خاتون کو مجرم نہیں ٹہرایا جا سکتا ہے۔ خواتین کے حقوق کی رہنما سبھاشنی علی کہتی ہیں کہ اب ایسے رشتے کو جرم ماننا درست نہیں ہوگا اور اگر صرف مرد ہی کو سزا ملے تو یہ امتیازی سلوک ہے۔ ’ ناجائز جنسی تعلقات میاں بیوی میں طلاق کا سبب تو مانے جاسکتے ہیں لیکن اس دور میں ایڈلٹری کو جرم ماننا صحیح نہیں ہوگا اور اگر جرم ہے تو صرف مرد کو سزا دینا ایک امتیازی سلوک ہے‘۔ تعزیرات ہند کی دفعہ497 کے تحت بیوی کی علاوہ کسی غیر عورت کے ساتھ جنسی تعلقات رکھنے کی سزا پانچ برس قید با مشقت ہے لیکن خواتین اس سے پوری طرح مستثنی ہیں۔ سپریم کورٹ کی وکیل ورندہ گروور کہتی ہیں کہ اس قانون میں عورتوں کو مردوں کے مساوی حقوق نہیں دیے گئے اسی لیے سزا بھی مرد کے لیے ہی تجویز کی گئی ہے‘۔ اس قانون کے تحت عورت کا وجود ہی نہیں ہے، یعنی اگر بیوی مرد کی مرضی سے دوسرے کے ساتھ جنسی رشتہ قائم کرلے تو وہ ایڈلٹری نہیں ہے ۔ چونکہ اس دفعہ کے تحت عورت کو حقوق حاصل نہیں ہے اس لیے اس کے لیے سزا بھی تجویز نہیں کی گئی‘۔ ورندہ گروور اس بات سے متفق ہیں کہ اب ایڈلٹری کو ایک سماجی مسئلہ مان لیا جائے اور اسے جرم کے زمرے میں نہیں بلکہ ایک سماجی مسئلہ سمجھنا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میری سمجھ سے ایڈلٹری کو جرم سمجھنا قطعئی صحیح نہیں ہے اب وقت بدل گیا ہے اور اسے ایک سماجی مسئلہ تسلیم کر لینا چاہیے، میں جج کے ریمارکس سے متفق نہیں ہوں کیونکہ اس میں صرف ایک پہلو پر توجہ دی گئی ہے اور خواتین کے حقوق پر توجہ نہیں دی گئی‘۔
دانشور اور سماجیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ شوہر کی طرح بیوی بھی کسی غیر کے ساتھ جنسی رشتے قائم کر سکتی ہے اس لیے انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ اگر یہ جرم ہے تومردوں کی طرح خواتین کی بھی سزاملنی چاہیے۔ ملک کے لاء کمیشن نے بھی اس قانون میں ترمیم کی سفارش کی تھی۔ لیکن جب اس بارے میں نیشنل وومن کمیشن سے رائے طلب کی گئی تو اس نے دفعہ 497 میں تبدیلی سے انکار کردیا۔ کمیشن کی ایک سینیئر رکن یاسین ابرار کہتی ہیں کہ اس معاملے میں خواتین ہی ہر حال میں مردوں کا شکار بنتی ہیں اس لیے انہیں سزا نہیں دی جا سکتی۔ سنہ دو ہزار دو میں جسٹس ملی متھ کمیٹی نے اپنی رپورٹ کہا تھا کہ ایڈلٹری قانون میں مرد اور عورت کو برار کا ذمہ دار ماننا چاہیے۔ تاہم گزشتہ جنوری میں مادھون پینل نےایڈلٹری کو جرائم کے زمرے سے نکال کر سیول زمرے میں ڈالنے کی سفارش کی تھی۔ نیشنل وومن کمیشن اس بات سے متفق ہے کہ ایڈلٹری کو جرائم کے زمرے سے نکال دیا جائے لیکن لاء کمیشن کی اس رپورٹ کےخلاف ہے کہ خواتین کو بھی اس کی سزا ملنی چاہیے۔ دلی ہائی کورٹ کے جج کے ریمارکس کے بعد اب یہ معاملہ سرخیوں میں ہے اور امکان ہے حکومت اس پر جلدی ہی کوئی فیصلہ کرے گی۔ | اسی بارے میں بھوپال: ’لڑکیاں سکوٹر نہ چلائیں‘12 April, 2007 | انڈیا انڈیا: زندہ والدین کی یتیم بیٹیاں18 February, 2007 | انڈیا جسم فروش خواتین کے لیے قرضے15 March, 2007 | انڈیا ایئرہوسٹس کا وزن، عدالتی جنگ01 June, 2007 | انڈیا ’روپی چند‘ کے پینتیس بچے10 April, 2007 | انڈیا انڈیا: ورکنگ وومن کی تعداد میں اضافہ10 March, 2007 | انڈیا انڈیا: ذاتی معلومات کی شرط ختم13 April, 2007 | انڈیا ’ریپسٹ سےشادی نہیں کروں گی‘04 May, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||