انڈیا: ذاتی معلومات کی شرط ختم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی حکومت نے خواتین سرکاری ملازمین سے ان کی ماہواری سے متعلق معلومات کی شرط ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ہندوستان کی سول سروسز نے سالانہ کارکردگی جائزہ فارم میں خواتین افسران سے ان کی ماہواری اور زچگی کی چھٹیوں سے متعلق سوال پوچھے تھے۔ خواتین افسران اور سیاسی جماعتوں خصوصاً کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی طرف سے شدید ردعمل کے بعد ہندوستانی کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے مداخلت کی ہے۔ انڈیا کی وزارت پرسونل کے سیکرٹری کے مطابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی مداخلت پر ماہواری سے متعلق معلومات کی شرط واپس لیے جانے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ خواتین افسران کا کہنا تھا کہ ماہواری اور زچگی کی چھٹیوں سے متعلق سوالات ان کی ذاتی زندگی میں براہ راست مداخلت کے مترادف تھے۔ ہندوستانی سول سروسز کے اہلکاروں کی سالانہ کارکردگی اور صحت کا جائزہ لازمی ہے۔ کارکردگی کے جائزے سے متعلق اس فارم میں کہا گیا تھا :’خواتین افسران اپنی ماہواری کے بارے میں تفصیل سے جانکاری دیں کہ انہیں آخری بار ماہواری کب آئی تھی اور انہوں نے آخری بار زچگی کی چھٹی کب لی تھی‘۔ |
اسی بارے میں پنجاب:لڑکیوں سے امتیازی سلوک16 November, 2004 | انڈیا دنیا کی طاقت ور ترین خواتین21 August, 2004 | انڈیا دلہنوں کے لیئے نئے قوانین کی تجویز22 June, 2006 | انڈیا گھریلو تشدد سے متعلق قانون نافذ26 October, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||