BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈیا: ورکنگ وومن کی تعداد میں اضافہ

ہندوستانی خواتین ہر شعبہ میں اپنی مہارت دکھانا چاہتی ہیں
ہندوستان کے صنعتی ادارے ’ایسوسی ایٹڈ چمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری‘ یا ایسوچیم کے ایک جائزے کے مطابق ملک میں مردوں کی نسبت خواتین ملازمین کی تعداد بڑھی ہے۔ جائزے کے مطابق گزشتہ چھ برسوں میں ملازم عورتوں کی تعداد میں تقریبًا 4 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ مردوں کی تعداد میں آٹھ فیصد کمی ہوئی ہے۔

ایسوچیم کے جائزے کے مطابق سنہ دوہزار چار میں پبلک اور نجی سیکٹرز میں خواتین ملازمین کی تعداد انیس سو اٹھانوے کی نسبت 27 اعشاریہ 63 لاکھ سے بڑھ کر اٹھائیس اعشاریہ نو لاکھ ہوگئی ہے۔ یعنی گزشتہ چھ برس میں خواتین ملازمین کی تعداد میں چار اعشاریہ چھ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ جائزے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مرد ملازمین کی تعداد میں تقریبًا آٹھ فیصد کمی ہوئی ہے۔

ایسواچیم کے جائزے کے مطابق ہندوستان میں نجی سیکٹرز کے مقابلے میں پبلک سیکٹر میں خواتین کی تعداد زیادہ تیزی سے بڑھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت نے نہ صرف شہروں میں بلکہ دیہی علاقوں میں خواتین ملازمین کی تعداد بڑھانے کے لیے بعض ایسے اقدامات کیے ہیں جس سے وہ اقتصادی طور پر آزاد ہوسکیں۔

اقتصادیات کے ماہر ڈاکٹر بھارت جھنجھن والا کا خيال ہے کہ ’ہندوستان کے دیہات میں خواتین پہلے بھی اتنا ہی کام کرتی تھیں جتنا مرد کر تے تھے لیکن شہری ملازمتوں میں خواتین کی تعداد میں اضافہ ایک کلچرل تبدیلی ہے‘۔

خواتین
’دیہات میں خواتین پہلے بھی اتنا ہی کام کرتی تھیں جتنا مرد کر تے تھے‘

ایک سیاحتی مقام کی مینجنگ ڈائریکٹر نیرج گھئی کا کہنا کہ خواتین ملازمین کی تعداد نہ صرف پبلک بلکہ پرائیویٹ سیکٹر میں بھی بڑھ رہی ہے۔ ’بینکوں، سیاحت، میڈیا سبھی میں عورتوں کی تعداد تیزی سے بڑھنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ چھوٹے شہروں کی خواتین ہر شعبہ میں اپنی مہارت دکھا رہی ہیں۔ وہ دن گئے جب صرف مرد باہر جاکر کام کرتے تھیں اور عورتیں گھر سنبھالتی تھیں‘۔

سماجی کارکن رنجنا کماری کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں پبلک سیکٹر میں خواتین ملازمین کی تعداد بڑھنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ حکومت نے اس برس ’جینڈر سپسیفک بجٹ‘میں خواتین کے لیے نہ صرف مرکزی بلکہ ریاستی سطح پربھی بعض ایسی سکیموں کی تجویز پیش کی ہے جس سے خواتین کو آگے بڑھنے میں مدد ملے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں بین الاقوامی کمپنیوں کے فروغ کے بعد ملازمت کے مواقع بڑھ رہے ہیں اور پرائیویٹ کمپنیوں میں مردوں کی نسبت عورتوں کو ترجیج دی جاتی ہے۔ ماہرین کا یہ بھی خيال ہے کہ جیسے جیسے ہندوستان ایک ترقی یافتہ ملک بننے کی طرف بڑھ رہا ہے ویسے ویسے وہ ہر شہری کو برابر مواقع فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اسی بارے میں
مسلم خواتین کی سست رفتار
08 February, 2007 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد