BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 February, 2007, 15:31 GMT 20:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈیا: زندہ والدین کی یتیم بیٹیاں

رحمِ مادر میں بچی
دیہی علاقوں میں لڑکیوں کی پیدائش سے اجتناب کی وجہ غربت بتائی جاتی ہے
لڑکیوں کی پیدائش کے امکان کی صورت میں اسقاطِ حمل کے واقعات پر قابو پانے کے لیے ہندوستان کی مرکزی حکومت نے ایسے ادارے بنانے کا اعلان کیا ہے جن میں وہ بے سہارا بچیاں رہیں گی جن کے والدین انہیں پیدا کرنا نہیں چاہتے تھے۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق خاندانی فلاح و بہبود کی مرکزی وزیر رینوکا چودھری نے عوام سے اپیل کی ہے کہ پیدائش سے پہلے بچیوں کو قتل کرنے کے بجائے انہیں سرکار کے حوالے کر دیا جائے۔

ہندوستان میں رحم مادر میں بچے کی جنس کا پتہ لگانا قانون کے مطابق جرم ہے اور یہ قانون بارہ سال قبل بنایا گیا تھا۔

ایک جائزے کے مطابق ملک میں گزشتہ بیس برسوں میں اسقاطِ حمل کے ذریعے تقریباً ایک کروڑ بچیوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔

دیہی علاقوں میں لڑکی پیدا ہونے کے امکان کی صورت میں اسقاطِ حمل کی وجہ غربت بتائی جاتی ہے جبکہ شہروں میں چھوٹے گھرانے کے رجہان کو ایسے واقعات کی وجہ تصور کیا جاتا ہے۔

ہندوستان میں سن دوہزار ایک کی مردم شماری کے مطابق ایک ہزار مردوں کے مقابلے 927 خواتین ہیں جبکہ سال 1991 کی مردم شماری کے مطابق ایک ہزار کے مقابلے 945 خواتین تھیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد