انڈیا: زندہ والدین کی یتیم بیٹیاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لڑکیوں کی پیدائش کے امکان کی صورت میں اسقاطِ حمل کے واقعات پر قابو پانے کے لیے ہندوستان کی مرکزی حکومت نے ایسے ادارے بنانے کا اعلان کیا ہے جن میں وہ بے سہارا بچیاں رہیں گی جن کے والدین انہیں پیدا کرنا نہیں چاہتے تھے۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق خاندانی فلاح و بہبود کی مرکزی وزیر رینوکا چودھری نے عوام سے اپیل کی ہے کہ پیدائش سے پہلے بچیوں کو قتل کرنے کے بجائے انہیں سرکار کے حوالے کر دیا جائے۔ ہندوستان میں رحم مادر میں بچے کی جنس کا پتہ لگانا قانون کے مطابق جرم ہے اور یہ قانون بارہ سال قبل بنایا گیا تھا۔ ایک جائزے کے مطابق ملک میں گزشتہ بیس برسوں میں اسقاطِ حمل کے ذریعے تقریباً ایک کروڑ بچیوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔ دیہی علاقوں میں لڑکی پیدا ہونے کے امکان کی صورت میں اسقاطِ حمل کی وجہ غربت بتائی جاتی ہے جبکہ شہروں میں چھوٹے گھرانے کے رجہان کو ایسے واقعات کی وجہ تصور کیا جاتا ہے۔ ہندوستان میں سن دوہزار ایک کی مردم شماری کے مطابق ایک ہزار مردوں کے مقابلے 927 خواتین ہیں جبکہ سال 1991 کی مردم شماری کے مطابق ایک ہزار کے مقابلے 945 خواتین تھیں۔ | اسی بارے میں راجستھان: ڈاکٹروں کیخلاف تحقیقات 16 May, 2006 | انڈیا ’طبی جریدے کی رپورٹ غلط ہے‘11 January, 2006 | انڈیا ’لڑکیوں کے جنین کو ضائع نہ کریں‘13 November, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||