’لڑکیوں کے جنین کو ضائع نہ کریں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں ایک کارواں نے شمال مغربی ریاستوں کا دورہ کر کے رحم مادر میں بچیوں کو ہلاک کرنے سے منع کیا ہے۔ کارواں نے جو پچیس گاڑیوں اور دو سو افراد پر مشتمل ہے گزشتہ دس روز میں پانچ ریاستوں کا دورہ کیا ہے۔ کارواں کے ارکان ایک مشن پر ہیں۔ وہ اس رجحان کے خلاف مہم چلا رہے ہیں جس میں لوگ بیٹیوں کی پیدائش روکنے کے لیے انہیں ماں کے پیٹ میں ہی ضائع کروا دیتے ہیں۔ مہم کی قیادت سوامی اگنیویش کر رہے ہیں۔ سوامی اگنیویش کا کہنا ہے کہ ’تشدد کی اس سے زیادہ تکلیف دہ، ناپسندیدہ اور شرمناک قسم نہیں ہو سکتی‘۔ کارواں میں ہندو، مسلم، عیسایت اور جین مت کے ماننے والے شامل ہیں۔ کارواں کا آغاز یکم نومبر کو دیوالی کے دن ریاست گجرات سے ہوا اور اس کا آخری پڑاؤ پندرہ نومبر کو امرتسر میں گرونانک کی سالگرہ کے موقع پر ہوگا۔ کارواں اپنی مہم کے دوران بھارت کی اُن ریاستوں سے گزرے گا جہاں لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان تناسب انتہائی غیر مساوی ہے۔ ان ریاستوں میں گجرات، پنجاب، دِلّی اور ہریانہ شامل ہیں۔ ان ریاستوں میں ہر آٹھ سو لڑکیوں کے مقابلے میں ایک ہزار لڑکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق لڑکیوں کے جنین کو ضائع کی وجوہات میں سماجی اور اقتصادی محرکات شامل ہیں۔ لڑکیوں کو عام طور پر کمتر اور بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ | اسی بارے میں بھارتی پنجاب: 17بچوں کاقاتل گرفتار 30 October, 2004 | انڈیا شوہر سے طلاق، سسر سے شادی15 June, 2005 | انڈیا ہندو لڑکی طلاق لینے میں کامیاب22 June, 2005 | انڈیا جنسی زیادتی: پانچ ملزمان کو عمر قید24 June, 2005 | انڈیا بچوں سے زیادتی، مفرور برطانوی پیش 30 June, 2005 | انڈیا گجرات فسادات پر ایمنسٹی رپورٹ28 January, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||