بھارتی پنجاب: 17بچوں کاقاتل گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی پنجاب میں پولیس نے ایک سابق فوجی کوسترہ بچوں کو جنسی زیادتیوں کرنے کے بعد ہلاک کرنے کے سلسلے میں گرفتار کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ زیادتیوں اور ہلاکتوں کا نشانہ بننے والے ان بچوں میں گیارہ لڑکیاں اور چھ لڑکے تھے۔ تاہم مزید چھ بچے ایسے بھی تھے جنہیں ملزم دربار سنگھ نے مردہ سمجھ کر چھوڑ دیا تھا لیکن وہ بچ گئے اور انہی کی مدد سے پولیس نے ملزم کا وہ کمپیوٹر خاکہ تیار جو بعد میں اس کی گرفتاری میں مددگار ثابت ہوا۔ بتایا گیا ہے کہ ملزم کو پنجاب کے شہر جالندھر کے ایک نواحی علاقے سے گرفتار کیا گیا اور اس کے پاس سے وہ ٹافیاں بھی برآمد کی گئیں جو وہ بچوں کو لبھانے کے لیے استعمال کرتا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزم بری فوج میں رہ چکا ہے اور دوسری ریاستوں سے پنجاب آنے والے مزدووں کے بارے میں انتقامی جذبات رکھتا ہے اور اس نے جن بچوں کو نشانہ بنایا ہے وہ دوسری ریاستوں سے آنے والے غریب مزدوروں کے ہیں۔ ہلاکتوں کے یہ تمام واقعات گزشتہ دس ماہ کے دوران تقریباً اس وقت سے رو نما ہونا شروع ہوئے، جب ملزم جیل سے رہا ہوا۔ دربار سنگھ کو تقریبا گیارہ سال قبل نقلِ مکانی کر کے آنے والے ایک خاندان کی شکایت پر تیس سال قید کی سزا ہوئی تاہم جیل میں بہتر چال چلن پر اسے دس سال ہی میں اکتوبر 2003 میں رہا کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق ملزم بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر قریبی نہر میں پھینک دیتا تھا لیکن جو بچے زیادتی اور ہلاکت کو کوشش کے بعد بچ گئے انہیں اس نے کھتوں میں زیادتی کا نشانہ بنایا اور مردہ سمجھ کر وہیس چھوڑ گیا۔ پنجاب پولیس کے سربراہ نے ملزم کو ایک جنسی مریض قرار دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||