BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 May, 2006, 01:02 GMT 06:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
راجستھان: ڈاکٹروں کیخلاف تحقیقات

 ماں کے پیٹ میں بچہ
ہندوستانی معاشرے میں لڑکوں کو لڑکیوں پر ترجیح دی جاتی ہے
ہندوستان کی ریاست راجستھان میں پولیس نے 21 ڈاکٹروں کے خلاف مبینہ طور پر ’فیمیل فیٹاسائڈ‘یعنی رحمِ مادر میں موجود بچی کی جنس بتانے اور اسقاطِ حمل کی پیش کش کرنے کے الزام میں تفتیشی کارروائی شروع کی گئی ہے۔


یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب پچھلے مہینے ایک نجی ٹی وی چینل نے راجستھان کے مختلف علاقوں میں جاری ’فیمیل فیٹاسائڈ‘ کے عمل کی خبروں کو نشر کیا تھا۔


پیر کے روز ریاست کے صحت کے وزير دیگامبر سنگھ نے تفتیشی کارروائی کا حکم دیا۔ مسٹر سنگھ نے بی بی سی کوبتایا کہ ’قصوروار‘ کسی بھی صورت میں بچ نہیں سکیں گے‘۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس نے سرکاری اور نجی اسپتالوں کے 21 ڈاکروں کے خلاف پی این ڈی ٹی: یعنی پرینیٹل ڈیکٹشن ٹکنیک ایکٹ کے تحت کیس درج کیے ہیں۔

اس قانون کے تحت حاملہ عورت کے رحم میں بچے کی جنس کا پتہ لگانے کی غرض سے ’الٹرا ساؤنڈ‘ کرنا غیر قانونی ہے۔

دوسری جانب متعلقہ ڈاکٹروں نے عائد کیے جانے والے تمام الزامات کو غلط قرار دیا ہے۔

ریاست کی کئی دیگر سماجی تنظیموں نے اس معاملے میں پولیس کے بجائے سی بی آئی سے تفتیشی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ایسی ہی ایک تنظیم پیپلز یونین آف سول لیبرٹی کی کویتا شریواستو کا کہنا ہے کہ ’ہمیں ریاستی ایجنسیوں پر بالکل بھروسہ نہیں ہے۔ اس اسکینڈل کی جانچ کی ذمےداری سی بی آئی کے حوالے کر دینا چاہیے‘۔

اسی دوران راجستھان میں لڑکیوں کی تیزی سے گھٹتی ہوئی تعداد کے معاملے کو اجاگر کرنے کے لیے دارالحکومت جے پور میں خاتون سماجی کارکنوں نے ایک جلوس بھی نکالا ہے۔

راجستھان میں اس وقت 1000 لڑکوں کی نسبت 922 لڑکیاں ہیں۔ خواتین کے تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومت ریاست میں پی این ڈي ٹی ایکٹ نافز کرنے میں ناکام رہی ہے۔

اس برس مارچ میں ہندوستان کی ریاست ہریانہ میں ایک ڈاکٹر کو رحمِ مادر میں موجود بچی کی جنس بتانے اور اسقاطِ حمل کی پیشکش کے جرم میں دو سال کی سزا سنائی گئی ہے۔

یہ پہلا موقع تھا جب ایسے کسی معاملے میں کسی شخص کو سزا سنائی گئی ہے۔ ایک دوسری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں گزشتہ بیس برسوں میں ایک کروڑ بچیوں کو پیدا ہونے سے پہلے ہی ہلاک کر دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد