BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 29 March, 2006, 08:27 GMT 13:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بچے کی جنس بتانے پرپہلی بار سزا

 ماں کے پیٹ میں بچہ
ہندوستانی معاشرے میں لڑکوں کو لڑکیوں پر ترجیح دی جاتی ہے
ہندوستان کی ریاست ہریانہ میں ایک ڈاکٹر کو’فیمیل فیٹاسائڈ‘یعنی رحمِ مادر میں موجود بچی کی جنس بتانے اور اسقاطِ حمل کی پیشکش کے معاملے میں دو سال کی سزا سنائی گئی ہے۔

یہ پہلا موقع ہے جب ایسے معاملے میں کسی شخص کو سزا سنائی گئی ہے۔ ذیلی عدالت نے ڈاکٹر کے ساتھ اس کے معاون کو بھی دو سال قید کی سزا سنائی ہے اور ساتھ ہی پانچ ہزار روپے کا جرمانہ بھی کیا ہے۔

یہ واقعہ ایک ’سٹنگ آپریشن‘ کے ذریعے سامنے آیا تھا۔ ریاستی حکام کے پاس انل سبانی نامی مذکورہ ڈاکٹر کے خلاف کافی شکاتیں آ رہی تھیں چنانچہ حکام نے سچائی جاننے کے لیئے ایک تین ماہ کی حاملہ عورت کو اس ڈاکٹر کے پاس معائنے کے لیئے بھیجا۔

 انل سبانی نامی ڈاکٹر نے اس عورت کو بتایا تھا کہ اس کے پیٹ میں ایک لڑکی ہے اور وہ اسے اس سے نجات دلا سکتا ہے۔

عورت نے خفیہ ریکارڈنگ کے ذریعے ڈاکٹر کی تمام بات چیت ریکارڈ کر لی اور جب حکام نے خفیہ ریکارڈنگ دیکھی تو پتہ چلا کہ انل سبانی نامی ڈاکٹر نے اس عورت کو بتایا تھا کہ اس کے پیٹ میں ایک لڑکی ہے اور وہ اسے اس سے نجات دلا سکتا ہے۔

یہ معاملہ کافی عرصے تک عدالت میں چلتا رہا اور اس دوران کئی گواہ منحرف بھی ہو گئے تھے لیکن عدالت نے خفیہ ریکارڈنگ کی بنیاد پر ڈاکٹر انل سبانی اور ان کے معاون کرتار سنگھ کو سزا سنائی ہے۔

 طب کا شعبہ وہ سب کر رہا ہے جو کہ اس معاشرتی برائی کے خاتمے کے لیئے کیا جا سکتا ہے۔ لوگوں کو لڑکی کے والدین ہونے پر فخر ہونا چاہیئے۔
ڈاکٹر ونے اگروال

اس برس کے آغاز میں انڈین اور کینیڈین تحقیق دانوں نے کہا تھا کہ انڈیا میں ہر برس پانچ لاکھ لڑکیوں کو رحمِ مادر میں ہی ہلاک ر دیا جاتا ہے اور اگر یہ اعدادو شمار درست ہیں تو گزشتہ بیس برس کے دوران انڈیا میں دس ملین لڑکیوں کو رحمِ مادر میں ہی ختم کیا گیا ہے۔

’فیمیل فیٹاسائڈ‘ کے خلاف مہم میں شامل دلی کے ایک سرکردہ ڈاکٹر پونیت بیدی نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلےسے ان کی مہم میں کافی مدد ملے گی۔ مسٹر بیدی کا یہ بھی کہنا تھا کہ’جب تک تمام ڈاکٹر ایک ساتھ مل کر غیر قانونی جانچ کے خلاف آواز نہیں اٹھائيں گے تب تک اس مسئلے پر قابو پانا ناممکن ہوگا‘۔

انڈیا میں رحمِ مادر میں جنس کی تشخیص غیر قانونی ہے اور مرکزي حکومت نے اس پر قابو پانے کے لیئے ’پی این ڈی ٹی ایکٹ‘ یعنی ’پیرنٹل ڈائگنوسٹر ٹکنیک ایکٹ‘ نامی ایک خصوصی قانون تشکیل دیا ہے۔ اگرچہ یہ قانون بارہ برس قبل بنایا گیا تھا لیکن اس کے باوجود مسلسل’ فیمیل فیٹاسائڈ‘ کے معاملے سامنے آتے رہے ہيں۔

انڈیا میں رحمِ مادر میں جنس کی تشخیص غیر قانونی ہے

اس قانون کے تحت تقریباً چار ہزار مقدمات درج ہیں لیکن اس سے پہلے کسی کو قید کی سزا نہیں سنائی نہیں گئی تھی۔ہندوستان میں اس طرح کے معاملے سب سے زیادہ ہریانہ ، پنجاب ، دلی ، ہمانچل پردیش جیسی ریاستوں میں سامنے آئے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق ریاست ہریانہ میں 1000 لڑکوں کی نسبت لڑکیوں کی تعداد 861 رہ گئی ہے جبکہ قومی طور پر یہ تعداد 927 ہے۔ انڈیا میں ایک ہزار لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی تعداد جو 1901 میں نو سو بہتر تھی 2001 میں کم ہو کر نو سو تینتیس رہ گئی۔

روایتی طور پر ہندوستان میں لڑکوں کو لڑکیوں سے زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔ جہاں ایک طرف لڑکوں کوگھر کی آمدنی بڑھانے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے وہیں دوسری جانب لڑکیوں کو شادی کی پیچیدہ روایتوں کے سبب صرف ایک بوجھ سمجھا جاتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد