شہری بھارتیوں کی نفسیاتی الجھنیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
معاشرے کی موجودہ پیچیدہ صورت حال میں لوگ کئی طرح کی نفسیاتی پریشانیوں کا شکار ہورہے ہیں اور اسی لیے ہندوستان میں اعصابی تناؤ اور ذہنی کشمکش کے علاج کے لیے نفسیاتی ماہرین کی مدد اب ایک عام بات ہے۔ تقریبا سبھی ہسپتالوں میں ماہرنفسیات ہیں اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنے مسائل حل کے لیے ان کا سہارا لے رہی ہے۔ ذہنی تناؤ کم کرنے اور دل ہلکا کرنےکے لیے بعض کمپنیوں نے کئی طرزکی مو سیقی کی بھی تخلیق کی ہے۔ لیکن شہروں کی تیز رفتار زندگی میں پیچدگیاں اتنی بڑھ رہی ہیں کہ ہسپتالوں میں نفسیاتی ماہر ین سے ملاقات کے لیے لوگ گھنٹوں قطار میں لگتے ہیں۔ دلی میں نفسیاتی امراض کے مشہور ڈاکٹر دیپک رہیجا کہتے ہیں کہ اب لوگ اپنی پریشانیوں کے تئیں بیدار ہیں اور اس سے پہلے کہ وہ ٹوٹ جائیں مدد چاہتے ہیں۔ انہوں نےبتایا کہ ’آج کل ایسے لوگ بہت آتے ہیں جن کا ذہنی نظام الجھا ہو۔ وہ جذباتی الجھنوں اور رشتوں اور تعلقات کی پیچدگیوں میں مبتلا ہوتے ہیں کیوں کہ شہری رہن سہن تیزی سے بدلا ہے۔‘ وہ مزید کہتے ہیں: ’لوگوں کو اپنے آپ سے امیدیں زیادہ ہیں لیکن افسردگی اور مایوسی کو برداشت کرنے کی ہماری قوت کم ہوگئی ہے۔ شراب اور نشیلی ادویات کا استعمال بہت ہے۔ اس کے علاوہ ازدواجی زندگی میں اختلافات عام بات ہیں اور ایسے ہی لوگ ہماری مدد چاہتے ہیں۔‘
نفسیاتی امراض بھی الگ الگ قسم کے ہوتے ہیں اور کئی تو ایسے ہیں جو بعض مخصوص پیشہ وارانہ حالات میں پنپتے ہیں۔ ڈاکٹر راغب حسین بتاتے ہیں کہ ان کے پاس امتحان میں فیل ہونے والے طلباء کی تعداد زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’آج کی زندگی بہت مصروف ہے۔ رات دن کام کرنے سے کلینکل ڈپریشن کے کیس بہت زیادہ ہیں اور اس میں سافٹ ویئر انجینئئر اور کال سینٹرز کے پیشہ ور زیادہ مبتلاہوتے ہیں۔‘ نفسیاتی پریشانیوں اور اعصابی تناؤ میں روز بہ روز اضافے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ لیکن جب پیچیدگیاں مریض کی سمجھ سے باہر ہوجائیں تو پھر وہ سائیکولوجسٹ یعنی نفسیاتی ماہر کی مدد کے لیے وقت اور پیسے دونوں خرچ کرتے ہیں۔ پرائیوٹ کمپنی کی ایک مینیجر نیہا نے بتایا کہ ’میں بڑی آزاد خیال تھی لیکن شادی کے بعد میری ذہنی الجھنیں بڑھ گئیں۔ میں بڑی مشکل میں تھی اور جب پریشانی برداشت سے باہر ہوگئی تو ایک دوست کے کہنے پر میں نے سائیکولوجسٹ کی مدد لی اور مجھے کافی فائدہ ہوا ہے۔‘ ڈاکٹر رہیجا کی کلینک پر ایک مریض نے بتایا کہ ’میری فیملی پرابلم تھی۔ ایک وقت تھا کہ لوگ اپنی تکلیف و درد سہہ لیتے تھے یا پھر بڑوں کی مدد سے غم ہلکاکر لیتے تھے۔ کاش میرے ساتھ بھی خاندان کے لوگ ہوتے اور میری مدد کرتے۔ آخر کار تنگ آکر میں نے ڈاکٹر کی مدد لی ہے اور اب کچھ سکون ہے۔‘
قطار میں لگے ایک دوسرے مریض نے کچھ یوں کہا: ’اس مصروف ترین دور میں اگر زندگی تن تہنا ہے تو قوت برداشت بھی کم ہو گئی ہے۔ ایسی صورت میں نفسیاتی ڈاکٹر آخری سہارا ہیں۔ انہی کی بدولت میری خوشیاں پھر واپس ہورہی ہیں۔‘ آخر نفسیات کے ماہر اس طرح کی ذہنی بیماریو ں کا علاج کیسے کرتے ہیں؟ سائیکولوجسٹ شہزاد بتا تے ہیں: ’ذہنی پریشانی کے جال میں آدمی اتنا الجھ جاتا ہے کہ وہ بڑی مشکل سے خود نکل پاتا ہے۔ ایسے میں ماہرین ان کی پریشانیوں کو سمجھ کر اس کا حل پیش کرتے ہیں اور حل خود مریض میں چھپا ہوتا ہے۔‘ مایوسی اور افسردگی سے نکالنے کے لیے ماہر اپنے مریضوں کے ساتھ گھنٹوں بات کرتے ہیں۔ اس کے فائدے کے بارے میں جب ایک مریض سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا: ’اگر مجھ جیسی آزاد خیال تعلیم یافتہ لڑکی کو اس طرح کی کونسلگ سے فائدہ ہوسکتا ہے تو عام آدمی کے لیے تو بہت مفید ہوگی۔‘ ماہرین کا کہنا ہے کہ ذہنی کشمکش کے شکار لوگ زیادہ تر بڑے شہروں میں ہیں۔ آج کے معاشرے میں سبھی عمر کے لوگ اس میں مبتلا ہیں۔ لیکن ڈاکٹروں کے مطابق ایک تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ اب نئی عمر کے بچے بھی سنگین نوعیت کی ذہنی الجھنوں کا شکار ہورے ہیں اور اکثر ان کے مسائل جنسی آزادی کی صورتحال سے پیدا ہورہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||