غیب بینی پریقین کیوں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک نئی ریسرچ کے مطابق مرنے والوں کی روحوں سے باتیں کرنا دراصل کسی خوف کا نتیجہ ہو سکتا ہے نا کہ حقیقت میں روحیں بلانے سے آتی ہیں۔ برطانیہ کے ماہرِ نفسیات پروفیسر وائزمین کا کہنا ہے کہ لوگ چاہتے ہیں کہ ’میڈیم‘ جو کچھ بھی کہے لوگ اس کا مطلب وہی نکالیں جو وہ سننا چاہتے ہیں، چاہے یہ مطلب حقیقت ہو یا نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ لوگ چاہتے ہیں کہ ان کے متعلق عمومی اور بڑی باتیں کی جائیں اور انہی پر ہی وہ یقین کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ’میڈیم‘ کے پاس جاتے ہیں وہ اکثر خود اعتمادی کی بحالی یا مدد کے لیے جاتے ہیں۔ مثلاً جب کسی پیارے کے مر جانے کے بعد جو حالتِ دکھ ہوتی ہے اور جو تبدیلی آتی ہے اس کا مداوا کرنے کے لیے۔ پروفیسر وائزمین نے اپنی تحقیق پانچ میڈیم اور پانچ دوسرے افراد پر کی ہے اور ان کے مطابق انہیں اس دوران کسی حقیقی غیب بینی یا روحانیت کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔ پروفیسر نے اپنی تحقیق اگست میں ویانا میں ہونے والی پیراسائکولوجیکل ایسوسی ایشن کے کنوینشن میں پیش کی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||