جسم فروش خواتین کے لیے قرضے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے نجی بینک آئی سی آئی سی آئی نے پیشہ ور جسم فروش خواتین کے لیے ایسی سکیم پیش کی ہے جس کے تحت وہ بینک سے قرض لے کر ایک باعزت زندگی گزار سکیں گی۔ آئی سی آئی سی آئی نے کولکتہ میں سیکس ورکرز کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری ادارے ’دوربار مہیلا سمناویے سمیتی‘ کے اشتراک سے اس مائیکرو فائنانس پروگرام کی شروعات کا اعلان کیا ہے۔ ’دوربار مہیلا سمناویے سمیتی‘ نامی تنظیم ملک بھر میں تقریباً پیسٹھ ہزار سیکس ورکرز کے حقوق کے لیے کام کرتی ہیں۔ ادارے کے ترجمان اوشا شانتونو چیٹرجی کا کہنا ہے ’سکیم ان سیکس ورکرز کے لیے فائدہ مند ہوگی جو بوڑھی ہیں اور ایڈز جیسی خطرناک بمباری میں مبتلا ہیں۔ سیکس ورکرز بینک سے قرض لے کر اپنی آمدنی کو بڑھا سکتی ہیں کیونکہ بعض خواتین ایسی بھی ہیں جو جسم فروشی کے کام میں ملوث ہیں اور انہیں اپنے بچوں کی پڑھائی اور ديگر اخراجات کے لیے مزید پیسے کی ضرورت ہوتی ہے‘۔
بینک کے مطابق اس سکیم کا مقصد سیکس ورکرز کو ان کے موجودہ کام سے باہر نکال کر روزگار کے دیگر مواقع فراہم کرنا ہے۔ سکیم کے تحت بینک سیکس ورکرز کے ساتھ کام کرنے والے غیر سرکاری اداروں کو قرض دے گی جو ’سیلف ہیلپ گروپ‘ بنائیں گے۔ ان گروپوں میں دس سے بیس خواتین ہوں گی جو اس قرض کی مدد سے چھوٹے روزگار جیسے کریانے، سبزی اور کپڑے کے دوکانیں لگا سکتی ہیں۔بینک کا کہنا ہے کہ اس سکیم کا مقصد سماج کے ان سبھی طبقوں کو روزگار فراہم کرنا ہے جو غربت کی لکیر پر ہیں اور سماجی اور اقتصادی وجوہات کی بنا پر ایک بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اقتصادیات کے ماہر آلوک پرانک کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں مائیکرو فائنانسنگ نے آندھرا پردیش، جنوبی ہندوستان اور مشرقی اترپردیش کے بعض چھوٹے علاقوں میں خواتین کواقتصادی طور پر آزادی دینے میں مدد کی ہے۔ آلوک پرانک کا یہ بھی خیال ہے کہ بینک کی یہ سکیم اقتصادی سے زیادہ ایک سماجی قدم ہے۔ | اسی بارے میں جنسی کارکنوں کی ٹیکس کی پیشکش03 March, 2007 | انڈیا سیکس ورکرز کے لیئے ایڈز کارڈ09 July, 2006 | انڈیا سیکس پر کھل کر بات کریں: منموہن01 December, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||