جنسی کارکنوں کی ٹیکس کی پیشکش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست مغربی بنگال کی کمیونسٹ حکومت نے جنسی کارکنوں کی اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے اپنے کوٹھوں پر پولیس کے چھاپے روکنے کے لیے اپنی آمدنی سے ٹیکس ادا کرنے کی پیشکش کی تھی۔ مغربی بنگال کے سب سے بڑے سیکس ورکر گرپ دربار مہیلا سماج سمنویا کمیٹی سے تعلق رکھنے والی بھارتی دیوی نے کہا کہ ’جنسی کارکنوں نے قانونی تحفظ اور معاشرے میں با عزت مقام حاصل کرنے کےلیے حکومت کو ٹیکس دینے کی تجویز پیش کی تھی۔‘ ’لیکن ریاست کے قانونی وزير ربی لعل مؤئترا نے اس پیشکش کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت جسم فروشی کو قانونی طور پر جائز قراد دینے کے بارے میں نہیں سوچ رہی ہے۔‘ ہندوستان میں جسم فروشی کے لیے لوگوں کو راغب کرنا غیرقانونی ہے۔ لیکن گزشتہ ہفتے ہزاروں سیکس ورکرز نے کولکاتا میں مذاکرات کے بعد یہ مطالبہ کیا کہ موسیقاروں اور اداکاروں کی ہی طرح ان کے کام کو قانونی طور پر اجازت دی جائے۔ مغربی بنگال پولیس کے اعلی اہلکار راج کنّوجیا کا کہنا تھا کہ اگر سیکس ورکرز سے ٹیکس لینا شروع کیا گیا تو دیگر جرائم پر مبنی سرگرمیوں کو بھی قانونی طور پر جائزقرار دینا پڑے گا۔ مقامی مبصرین کا کہنا ہے حالانکہ پولیس ریاست میں بعض کوٹھوں کو نظر انداز کر دیتی ہے لیکن ’اکثر پولیس بچوں اور عورتوں کو زبردستی جسم فروشی کرنے سے بچانے کے لیے ہی چھاپے مارتی ہے۔‘ کئی مغربی ممالک جیسے جرمنی اور نیدرلینڈز میں جنسی کارکنوں کو قانون کا تحفظ حاصل ہے۔ | اسی بارے میں جنسی اشتہارات پر پابندی16 December, 2004 | انڈیا ہم جنس پرستوں کی درخواست مسترد02 September, 2004 | انڈیا الٹراساؤنڈ اور جنسی ہلاکتیں22 January, 2005 | انڈیا جنسی سکینڈل: پولیس افسر گرفتار 07 June, 2006 | انڈیا سیکس ورکرز کے لیئے ایڈز کارڈ09 July, 2006 | انڈیا ہریانہ: جنسی ہراس کے خلاف کمیٹیاں 17 September, 2006 | انڈیا ہم جنس پرستی، ایڈز اور قانون29 September, 2006 | انڈیا گھریلو تشدد سے متعلق قانون نافذ26 October, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||