BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 March, 2007, 10:46 GMT 15:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنسی کارکنوں کی ٹیکس کی پیشکش

ہمیں پروفیشنلز کا درجہ دیا جائے: جنسی کارکن
ہندوستان کی ریاست مغربی بنگال کی کمیونسٹ حکومت نے جنسی کارکنوں کی اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے اپنے کوٹھوں پر پولیس کے چھاپے روکنے کے لیے اپنی آمدنی سے ٹیکس ادا کرنے کی پیشکش کی تھی۔

مغربی بنگال کے سب سے بڑے سیکس ورکر گرپ دربار مہیلا سماج سمنویا کمیٹی سے تعلق رکھنے والی بھارتی دیوی نے کہا کہ ’جنسی کارکنوں نے قانونی تحفظ اور معاشرے میں با عزت مقام حاصل کرنے کےلیے حکومت کو ٹیکس دینے کی تجویز پیش کی تھی۔‘

’لیکن ریاست کے قانونی وزير ربی لعل مؤئترا نے اس پیشکش کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت جسم فروشی کو قانونی طور پر جائز قراد دینے کے بارے میں نہیں سوچ رہی ہے۔‘

ہندوستان میں جسم فروشی کے لیے لوگوں کو راغب کرنا غیرقانونی ہے۔ لیکن گزشتہ ہفتے ہزاروں سیکس ورکرز نے کولکاتا میں مذاکرات کے بعد یہ مطالبہ کیا کہ موسیقاروں اور اداکاروں کی ہی طرح ان کے کام کو قانونی طور پر اجازت دی جائے۔

مغربی بنگال پولیس کے اعلی اہلکار راج کنّوجیا کا کہنا تھا کہ اگر سیکس ورکرز سے ٹیکس لینا شروع کیا گیا تو دیگر جرائم پر مبنی سرگرمیوں کو بھی قانونی طور پر جائزقرار دینا پڑے گا۔

مقامی مبصرین کا کہنا ہے حالانکہ پولیس ریاست میں بعض کوٹھوں کو نظر انداز کر دیتی ہے لیکن ’اکثر پولیس بچوں اور عورتوں کو زبردستی جسم فروشی کرنے سے بچانے کے لیے ہی چھاپے مارتی ہے۔‘

کئی مغربی ممالک جیسے جرمنی اور نیدرلینڈز میں جنسی کارکنوں کو قانون کا تحفظ حاصل ہے۔

اسی بارے میں
جنسی اشتہارات پر پابندی
16 December, 2004 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد