بھوپال: ’لڑکیاں سکوٹر نہ چلائیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر بھوپال میں سندھی پنچایت نے اپنی برادری کی لڑکیوں کے موبائل فون رکھنے، سکوٹرز چلانے اور چہرے پر نقاب لگانے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بدھ کو پنچایت کے ایک اجلاس میں سندھی سماج کی لڑکیوں پر اس قسم کی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیاگيا ہے۔ پنچائیت کا یہ فیصلہ گزشتہ پندرہ دنوں کے ان واقعات کے پیش نظر سامنے آیا ہے جس میں دو سندھی لڑکیوں نے گھر سے بھاگ کر مسلم لڑکوں سے شادیاں کر لیں جس کی وجہ سے سندھی سماج میں کافی غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ سخت گیر ہندو تنظیمیں آر ایس ایس اور بجرنگ دل نے اس کو اور ہوا دی ہے۔ اس ماہ کی شروعات میں تئیس سالہ پرینکا وادھوانی ایک مسلم لڑکے محمد عمر کے ساتھ ممبئی بھاگ گئی جہاں عمر نے ہندو مذہب اپنایا اور دونوں نے ہندو روایت کے مطابق شادی کرلی۔ ابھی یہ معاملہ گردش میں ہی تھا کہ چند روز بعد ایک اور سندھی لڑکی نیتو جودھانی نے مسلم لڑکے ریحان سے شادی کر لی۔ اجلاس کے دوران پنـچائیت کا کہنا تھا کہ موبائل فون اور گرد و غبار سے بچنے کے لیے چہرے کو دوپٹے سے چھپانا اس طرح کے حالات کی ایک بڑی وجہ ہے۔ علاقے میں ہندو لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد سکوٹر چلاتی ہے اور گرم موسم میں گرد و غبار سے بچنے کے لیے لڑکیاں چہروں کو ڈھانک لیتی ہیں۔ پنچائیت کے ارکان اور ریاست کی سابق وزیراعلیٰ اوما بھارتی کی سیاسی پارٹی بھارتی جن شکتی کے لیڈر بھگوان داس سبنانی کا کہنا ہے کہ لڑکے لڑکیاں ماں باپ کی دی ہوئی آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ آر ایس ایس کے سینئر رہنما اتم چند اسرانی کی سربراہی میں بھوپال میں ایک میٹنگ ہوئی۔ ہندو لڑکیوں کو مسلم لڑکوں کے چنگل سے بچانے کے ایک ’ہندو کنیا رکشا‘ یعنی ہندوں لڑکیوں کی حفاظت کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے۔ بجرنگ دل کے کارکنوں نے اس معاملے کے خلاف شہر میں اجتجاج، ہڑتال اور پولیس سے عمر کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ بجرنگ دل نے بدھ کو بھوپال میں مظاہرہ بھی کیا۔ تنظیم کے کارکن راجندر گپتا کا کہنا ہے ’ایک سازش کے تحت ہندو لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر ایسے کاموں کو انجام دیا جارہا ہے‘۔ عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سماجی کارکن دیوندر کور اپل کا کہنا ہے کہ اس قسم کے فیصلے عورتوں کی آزادی پر حملہ ہے اور آج کے دور میں جب خواتین مردوں کی برابری کر رہی ہیں تو اس طرح کے فیصلے کی سخت مخالفت ہونی چاہيے۔ اسی دوران ممبئی اور جبل پور ہائی کورٹ نے پرینکا اور عمر کی شادی کو جائز ٹھہراتے ہوئے پولیس کو انہیں تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا ہے اور اس معاملے میں پولیس کی کوتاہی پر اسے ایک نوٹس بھی بھیجا ہے۔ | اسی بارے میں جب بھوپال پر قیامت برسی01 December, 2004 | انڈیا بھوپال کو بھلایا گیا ہے: ایمنسٹی29 November, 2004 | انڈیا بھوپال سانحہ: 20 سال بعد معاوضہ18 November, 2004 | انڈیا بھوپال: معاوضہ ادا کرنے کا حکم19 July, 2004 | انڈیا بھوپال: گینگ ریپ کے ملزمان گرفتار11 July, 2004 | انڈیا بھوپال کا گمنام ہیرو02 December, 2004 | انڈیا بھوپال گیس سانحے پر ہالی وڈ فلم 04 December, 2004 | انڈیا بھوپال: مرنے والوں کو یاد کیا گیا 03 December, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||