بھوپال: معاوضہ ادا کرنے کا حکم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی سپریم کورٹ نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ بھوپال گیس سانحے سے متاثرہ افراد اور انکے اہل خانہ میں ایک ہزار پانچ سو تین کروڑ روپے کی وہ رقم تقسیم کرے جو یونین کاربائڈ سے ایک مفاہمت کے تحت ریزرو بینک آف انڈیا میں محفوظ ہے۔ جسٹس شیوراج وی پٹیل اور بی این کرشن پر مشتمل بینچ نے اپنے اس اہم فیصلے میں کہا کہ یہ رقم بھوپال میں گیس لِیک معاملے کے ویلفیئر کمشنر کو سونپ دی جائے تاکہ وہ متاثرین کو نقصان کی نوعیت کے حساب سے انکی مدد کر سکیں۔ سپریم کورٹ نے ویلفئیر کمشنر کو یہ بھی ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ دو ہفتے کے اندر اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں داخل کرے کہ وہ اس عمل کو کیسے انجام دیں گے۔ واضح رہے کہ 1984 میں ہندوستان کی ریاست مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں زہریلی گیس کے لیک ہونے کے سبب تقریباً بیس ہزار افراد ہلاک اور لاکھوں لوگ شدید طور پر متائثر ہوئے تھے۔ اسی سلسلے میں مفاد عامہ کی ایک رِٹ درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کورٹ نے یہ فیصلہ سنایا ہے۔ اس بھیانک حادثے کے بعد ہی کورٹ نے یونین کاربائڈ نامی کمپنی کو 470 ملین ڈالر ریزرو بینک آف انڈیا میں جمع کرنے کو کہا تھا جو اب ایک ہزار پانچ سو تین کروڑ روپے بن چکا ہے ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||