بھوپال: مرنے والوں کو یاد کیا گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے شہر بھوپال میں یونین کاربائڈ کے پلانٹ سے زیریلی گیس خارج ہونے کے واقعے کو اکیس سال ہونے پر احتجاجی ریلیوں کا انتظام کیا ہے اور مرنے والوں کی یاد میں شمعیں جلائی گئیں۔ اکیس سال پہلے آدھی رات کے بعد بھوپال میں یونین کاربائڈ کے پلانٹ سے زہریلی گیس خارج ہونے سے میں کم سے کم اٹھارہ ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ہزاروں لوگ اب بھی گیس کے اثرات کا شکار ہیں۔ انیس سو چوراسی میں تین دسمبر کی رات کو یونین کاربائڈ کے پلانٹ کے ایک ٹینک سے چالیس ٹن زہریلی گیس خارج ہو کر شہربھر میں پھیل گئی تھی۔ انسانی حقوق کی کچھ تنظیموں کا کہنا ہے کہ امریکہ میں قائم کمپنی یونین کاربائڈ نے جو اس پلانٹ کو چلاتی تھی حادثے کا شکار ہونے والے افراد کو پورا ہرجانہ ادا نہیں کیا۔ کمپنی، جو اب ڈاؤ کیمیکل کی ملکیت، کا کہنا ہے کہ اس نے حادثے کے وقت اخلاقی ذمہ داری قبول کی تھی اور وہ اس واقعے کو تخریب کاری کا نتیجہ قرار دیتی ہے۔ | اسی بارے میں سانحہ بھوپال کے زہریلے نتائج14 November, 2004 | انڈیا جب بھوپال پر قیامت برسی02 December, 2004 | انڈیا بھوپال سروے ، بیس سال بعد02 December, 2004 | انڈیا بھوپال کا گمنام ہیرو02 December, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||