سانحہ بھوپال کے زہریلے نتائج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی کی طرف سے کی گئی ایک تحقیق کے مطابق بھوپال کے گردو نواح میں رہنے والے ہزاروں افراد بھوپال کے زہریلی گیس خارج ہونے کے سانحے کے بیس سال بعد اب بھی زہر کے خطرے کا شکار ہیں۔ سن 1984 میں زرعی ادویات کی امریکی کمپنی یونین کاربائیڈ کے پلانٹ سے اس جگہ کو صاف کرنے کی ذمہ داری یونین کاربائیڈ انڈیا لِمیٹڈ کی تھی۔ لیکن ابھی ہزاروں ٹن زہریلا کیمیائی مادہ پلانٹ کے قریب نامناسب حالات میں پڑا ہوا ہے اور اس سے خارج ہونے والے کیمیکلز شہر کے پانی کو متاثر کر رہے ہیں۔ بی بی سی نے کمپنی کی سائٹ کے قریب ہی ایک کنویں سے پینے کے پانی کا نمونہ لیا۔ اس میں آلودگی عالمی ادارہ صحت کی زیادہ سے زیادہ حد سے 500 گنا زیادہ پائی گئی ہے۔ وہ مقامی لوگ جو اس پانی کو روزانہ پیتے ہیں انہیں مستقبل میں کیمیائی مادے سے جگر اور گردے کی بیماری کا بہت خطرہ ہے۔ یونین کاربائیڈ نے ان نتائج کو چیلنج کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ جب 1998 میں انہوں نے ریاستی حکومت کو کارخانہ واپس کیا تھا تب زیرِ زمین پانی کی آلودگی کا کوئی ثبوت نہیں تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||