بھوپال کا گمنام ہیرو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈپٹی سٹیشن سپرنٹینڈنٹ غلام دستگیر نے جب تین دسمبر کی رات کو بھوپال سٹیشن پر معمول کے مطابق اپنی شفٹ کا چارج سنبھالا تو کسی کو بھی یہ معلوم نہیں تھا کہ ریلوے کے اس ملازم کی مستعدی اور فرض شناسی کی وجہ سے آج رات وہ سینکڑوں لوگوں کی جان بچانے میں کامیاب ہوجائےگا۔ کاغذی کارروائی ختم کرکے ایک بجے کے قریب ممبئی سے گورکھ پور جانے والی ٹرین کو دیکھنے کے لئے پلیٹ فارم پر آئے تو انہیں سینے میں کچھ تکلیف سی محسوس ہوئی۔ شہر میں واقع یونین کاربائیڈ کی فیکٹری میں جو زہریلی گیس لیک ہونا شروع ہوئی تھی وہ اب ہر جگہ پھیل رہی تھی اور بہت سے لوگوں نے گھبراہٹ میں ریلوے سٹیشن کی طرف آنا شروع کردیا تھا۔ اگرچہ بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح مسٹر دستگیر کو بھی اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ کیا ہورہا ہے لیکن انہوں نے اپنے تجربے کی بنیاد پر فوری طور پر اپنے عملے کی میٹنگ بلائی اور پلیٹ فارم پر کھڑی گورکھ پور جانے والی ٹرین کو فوری طور روانہ کرنے کا حکم دیا۔ حالانکہ ابھی اس ٹرین کے روانہ ہونے میں بیس منٹ باقی تھے لیکن مسٹر دستگیر نے کہا کہ وہ ایک منٹ کا رسک بھی نہیں لینا چاہتے اور اپنے سینئر اہلکاروں سے پوچھے بغیر یہ فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس کے فوراً بعد مسٹر دستگیر نے کنٹرول روم میں جاکر ریلوے کے سینئر اہلکاروں کو مطلع کیا اور فیصلہ کیا کہ بھوپال کے سٹیشن پر کسی بھی ٹرین کو نہ آنے دیا جائے تاکہ آنے والی ٹرینوں کے مسافر زہریلی گیس سے متاثر نہ ہونے پائیں۔ لیکن شہر چھوڑنے کی خواہش میں سٹیشن کی طرف آنے والے لوگوں کے ہجوم کی وجہ سے بھوپال کا ریلوے سٹیشن موت اور اذیت کا ایک منظر پیش کررہا تھا۔ مسٹر دستگیر نے قریب کے چار سٹیشنوں پر ہنگامی حالت کا سگنل وقت پر بھیج دیا تھا اور مدد کے لئے کئی ایمبولینسیں اور ریلوے کے ڈاکٹر پہنچ گئے۔ عینی شاہدوں کے مطابق مسٹر دستگیر ایک پلیٹ فارم سے دوسرے پلیٹ فارم تک زخمیوں کی مدد کرنے کے لئے بھاگتے رہے۔ مسٹر دستگیر کو اس سب کے دوران خود بھی سانس لینے میں تکلیف ہورہی تھی لیکن وہ خود اپنے خاندان والوں کی پراوہ کئے بغیر مسلسل کام کرتے رہے۔ غلام دستگیر نے اپنی مستعدی اور حاضر دماغی کی وجہ اس رات یقینناً کئی سو افراد کی جان بچانے میں مدد کی۔ بعد میں انہیں علم ہوا کہ ان کا ایک بیٹا گیس خارج ہونے کے کچھ دیر بعد ہی ہلاک ہوگیا تھا جبکہ دوسرے کو آج تک جلد کی بیماری ہے۔ اور خود غلام دستگیر اپنے گلے میں زہریلی گیس کی وجہ سے ہونے والے بیماری کے علاج کے لئے پچھلے انیس سالوں تک ہسپتالوں کے چکر لگانے کے بعد پچھلے سال انتقال کر گئے۔ ان کی بیوی فہمیدہ دستگیر کا کہناہے کہ ان کے محکمے کی طرف سے ان کے خاوند کی کوششوں کی پذیرائی نہیں کی گئی۔ ریلوے کے محکمے نےحال میں ان لوگوں کے نام کی ایک یادگاری تختی نصب کی ہے جو تین دسمبر کی رات اپنا فرض نبھاتے ہوئے اپنی جان کھو بیٹھے لیکن اس تختی پر غلام دستگیر کا نام نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||