بھوپال سانحہ: 20 سال بعد معاوضہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھوپال گیس سانحہ کے متاثرین کو سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق معاوضہ دینے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے ۔ شہر کے 56 وارڈوں میں سے 36 میں معاوضہ کی رقم لینے کے لیے نوٹس بانٹنے کا کام شروع ہو گیا ہے۔ گیس ویلفئیر کمشنر دیپک ورما نے نئے شہر کے شیواجی نگر میں معاوضہ تقسیم کرنے کا کام شروع کیا۔ اس کے ساتھ ہی تلسی نگر ، پرانی ضلع عدالت، عید گاہ فتح گڑھ ، برکت اللہ بھون اور بان گنگا معاوضہ عدالتوں میں معاوضہ کی رقم تقسیم کی جارہی ہے۔ دعویداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس سے پہلے ملنے والے معاوضے کے کاغذات اپنے ساتھ لائیں جن دعویداروں نے بینکوں میں اکاؤنٹ نہیں کھلوائے ہیں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ بینکوں یا ڈاک خانوں میں اپنے اکاؤنٹ کھلوائیں ۔ گیس متاثرین میں جن کی موت ہوچکی ہے ان کے لواحقین کو 18 نومبر تک چھہ معاوضہ عدالتوں میں رقم ادا کی جائے گی۔ اس سانحہ میں زخمی ہونے والوں کو 25 ہزار روپے اور مرنے والوں کے لواحقین کو ایک لاکھ یا اس سے زیادہ رقم ملنے کی امید ہے۔ اس سال 10 جولائی کو سپریم کورٹ نے بھوپال گیس کے 72 ہزار متاثرین کو 1503 کروڑ روپیے کا معاوضہ اداکرنے کا حکم دیا تھا۔ تقریباً 20 سال قبل دو اور تین دسمبر کی درمیانی شب کو بھوپال کی کیڑے مار دوا بنانے والے کارخانے یونین کاربائیڈ سے زہریلی گیس رسنے کی وجہ سے15 ہزار لوگ مارے گئے تھےاور ایک لاکھ سے زیادہ متاثر ہوئے تھے۔ اس زہریلی گیس کا سب سے زیادہ اثر لوگوں کی آنکھوں اور پھیپڑوں پر ہوا تھا۔ 16 فروری 1989 میں کثیر ملکی کمپنی یونین کاربائیڈ کارپوریشن اور بھارتی حکومت کے درمیان عدالت کے باہر معاوضے کی ایکمشت رقم پر سمجھوتہ ہو گیا تھا یونین کاربائیڈ نے اس سلسلے میں 715 کروڑ روپیے ادا کئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||