BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 01 December, 2004, 02:35 GMT 07:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جب بھوپال پر قیامت برسی

News image
حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں بچے بھی شامل تھے۔
بھوپال اُس وقت سو رہا تھا۔

تین دسمبر انیس سو چراسی کی رات جب یونین کاربائیڈ کے کیمیکل پلانٹ میں صنعتی تاریخ کا بد ترین حادثہ ہوا تو پلانٹ کے ساتھ واقع کچی آبادی میں سکون سے سوئے ہزاروں لوگوں کو یہ علم نہیں تھا کہ صبح ہوتے تک ان کے شہر میں ایک قیامت سی بپا ہوگی۔

یونین کاربائیڈ کے پلانٹ سے لیِک ہونے والی زہریلی گیس سے بھوپال میں اس حادثے میں سرکاری اعدادو شمار کے مطابق تین ہزار افراد ہلاک ہوئے جبکہ دوسرے اندازوں کے مطابق یہ تعداد آٹھ ہزار سے دس ہزار تک بتائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً پچاس ہزار افراد مستقل طور پر اپاہج ہوگئے تھے جن میں سے کئی بعد میں ہلاک ہوگئے۔

News image
اب تک حادثے متاثر ہونے والے پانچ لاکھ لوگ مختلف بیماروں مبتلا ہیں۔

امریکی کمپنی یونین کاربائیڈ کے اس پلانٹ میں ایمرجینسی کی صورت میں لوگوں کو محفوظ مقام تک پہنچانے کا کوئی طریقہ کار وضح نہیں کیا گیا تھا۔ کمپنی نےمنافع میں کمی کے پیش نظر ملازمین کی تعداد میں ایک تہائی کمی کی تھی اور سیفٹی کے انتظامات بھی بہت ناقص تھے۔

حادثہ ’ایم آئی سی‘ نامی ایک ایسے کیمیکل کی وجہ سے ہوا جو ایک انتہائی خطرناک اور زہریلا کیمیائی مادہ ہے اور اسے ٹھنڈا اور پانی سے دور رکھا جاتا ہے کیونکہ اگر یہ پانی کے ساتھ مل جائے تو اس کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے اور اس سے بہت زہریلی گیس خارج ہوتی ہے۔

پلانٹ میں کام کرنے والے ایک مزدور کی ، جو ضروری احتیاطی اوزار کے بغیر پانی سے پائپ کی صاف کررہا تھا، غلطی سے پانی ایم آئی سی کے ٹینک میں پہنچ گیا جس کا درجہ حرارت 200 ڈگری تک پہنچ گیا اور خطرناک گیس بننا شروع ہوگئی۔

یونین کاربائیڈ کے پلانٹ میں موجود سیفٹی کے کئی نظام بالکل ناکام ثابت ہوئے اور گیس پھیلنا شروع ہوگئی۔

اگر لوگوں کو صرف یہ بھی بتا دیا جاتا کہ وہ گھروں کے اندر رہیں اور اور کھڑکیوں اور دروازوں کو گیلے کپڑوں سے سیل کرلیں تو ہزاروں جانیں بچ سکتی تھیں لیکن یونین کاربائیڈ نے مقامی آبادی کو کوئی احتیاطی تدابیر نہیں بتائیں تھیں۔ کمپنی نے بعد میں حادثے کی ’اخلاقی ذمہ داری‘ قبول کی اور اس پھر اس واقعہ کا ذمہ دار ایک ناراض ملازم کو قرار دے دیا۔ بہت سالوں کی قانونی جنگ کے بعد حادثے کے متاثرین کو پانچ سو ڈالر فی کس تک کا معاوضہ ادا کیا گیا۔

اب تک تقریباً پانچ لاکھ لوگ اس حادثے سے متاثر ہیں اور جزوی طور پر نابینا، فالج، اور قوتِ مدافعت میں کمی کی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد