بھوپال کو بھلایا گیا ہے: ایمنسٹی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کے شہر بھوپال میں بیس سال پہلے ہونے والے یونین کاربائڈ فیکٹری کے گیس کے حادثے پر حقوق انسانی کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی نئی رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی برادری اس حادثے کا شکار ہونے والے ایک لاکھ افراد کی مدد اور اس حادثے کے ذمہ دار افراد کو سزا دینے میں ناکام رہی ہے۔ ’کلاؤڈز آف اِنجسٹس‘ یعنی ناانصافی کے کالے بادل نامی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی برادری اس حادثے کے متاثرین کو امداد اور معاوضہ دینے میں نا کام رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پچاس کروڑ ڈالر معاوضے کی رقم یونین کاربائڈ بھارتی حکومت کو دے تو چکی ہے لیکن یہ تمام متاثرین تک نہیں پہنچائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ متاثرین میں سانس کی بیماریاں، سینے کی تکالیف اور دیگر امراض عام ہیں جن کا اب تک علاج نہیں ہو رہا ہے۔ علاقے کے پانی میں ابھی تک زہریلے مواد کے اثرات بھی باقی ہے۔ بھوپال حادثے میں مرنے والوں کی سرکاری تعداد پندرہ ہزار بتائی گئی تھی تاہم ایمنسٹی کا خیال ہے کہ حادثے میں بیس ہزار سے زیادہ لوگ مرے تھے۔ 1984 میں ہونے والا یہ حادثہ ایک امریکی کمپنی یونین کاربائیڈ کے پلانٹ میں سے میتھائل آئسوسائنیٹ گیس کے لیک ہونے کی وجہ سے پیش آیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||